پاکستان کی خطے میں منشیات فروش نیٹ ورکس کیخلاف ایک اور بڑی کامیابی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان نے خطے میں منشیات فروش نیٹ ورکس کے خلاف ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی۔ بحیرۂ عرب میں پاکستانی اداروں نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اربوں روپے مالیت کی منشیات سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی۔
ذرائع کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس کی فراہم کردہ خفیہ اطلاع پر بحیرۂ عرب میں کامیاب کارروائی کی گئی جس کے دوران منشیات کی ایک بڑی کھیپ پکڑ لی گئی۔ اس کارروائی میں اینٹی نارکوٹکس فورس، پاک بحریہ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی اور جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن کوآرڈی نیشن سنٹر نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران ایک مشتبہ کشتی کی تلاشی لی گئی جس سے تیرہ سو کلوگرام سے زائد چرس اور بڑی مقدار میں شراب برآمد کر لی گئی۔ برآمد ہونے والی منشیات اور دیگر ممنوعہ اشیاء کی مجموعی مالیت بیس ارب روپے سے زائد بتائی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق یہ انسدادِ منشیات کارروائی متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان مربوط رابطے، بروقت معلومات کے تبادلے اور مؤثر حکمتِ عملی کا واضح ثبوت ہے۔ اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کی روک تھام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں اور ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔