حال ہی میں شادی کے بندھن میں بندھنے والے پاکستانی معروف اداکارہ لائبہ خان نے انکشاف کیا ہے کہ زیادہ تر اداکارائیں اپنی شادی پر کرائے کے جوڑے اور زیورات پہنتی ہیں۔

لائبہ خان گزشتہ ماہ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئی ہیں، تاہم شادی سے قبل دیے گئے ان کے ایک انٹرویو کے مختصر ویڈیو کلپس اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو کلپ میں اداکارہ نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کل یہ ٹرینڈ ختم ہو رہا ہے کہ آپ مہنگے عروسی جوڑے لے کر رکھ لیں کیونکہ یہ جوڑا ایک بار ہی پہننا ہوتا ہے اس کے بعد کسی دوسرے کی شادی میں دلہن بن کے جانا اچھا نہیں لگتا۔

View this post on Instagram

A post shared by Owais Noor (@ovilovesfarhansaeed)


انہوں نے کہا کہ میں شوبز شخصیات کے حوالے سے بات کروں گی، تو ہمیں ڈیزائنرز کپڑے جیولری دے دیتے ہیں، جو ہم پہن کر انہیں واپس کر دیتے ہیں۔

اداکارہ نے کہا کہ میں نے بھی ایسا ہی کچھ سوچا ہے اپنی شادی کے لیے لیکن میں پھر بھی اپنا جوڑا تھوڑا کسٹمائز کرواؤں گی کیونکہ مجھے بچپن سے شادی کا شوق تھا اور میرے ارمان ہیں کہ میں اپنی شادی پر کیسے تیار ہوں گی اور کیسا جوڑا پہنوں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اپنی شادی

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا