سپریم کورٹ میں بانی کی صحت سے متعلق آئی رپورٹ خطرناک ہے: محمود خان اچکزئی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی—فائل فوٹو
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ میں بانی کی صحت سےمتعلق جو رپورٹ آئی ہے وہ خطرناک ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو فوری طور پر شفاء اسپتال پہنچا دیں۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ 80 فیصد ضائع ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے سیکڑوں ارکانِ اسمبلی اور سینیٹرز احتجاج کریں گے۔
بانی پی ٹی آئی کو جیل میں دستیاب سہولتوں پر رپورٹ میں فوری آنکھ کے معائنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکانِ پارلیمنٹ کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری ہے۔
تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان اور پی ٹی آئی قیادت پارلیمنٹ میں موجود ہیں جن محمود اچکزئی، بیرسٹرگوہر، اسد قیصر، علامہ ناصرعباس و دیگر قائدین کل سے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہیں۔
دیگر رہنماؤں میں پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شاہرام تراکئی، سیف اللّٰہ خان نیازی، شاندانہ گلزار، بشیر خان، فیصل امین گنڈاپور، علی جدون بھی پارلیمنٹ ہاؤس دھرنے میں موجود ہیں۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے تمام داخلی دروازے بند ہیں، جس کی وجہ سے ارکان کا ناشتہ بھی وقت پر نہیں پہنچایا جا سکا۔
اطلاعات کے مطابق گزشتہ رات بیرسٹر گوہر سے حکومتی شخصیات کا رابطہ ہوا تھا اور بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کے معائنے کے لیے ڈاکٹروں کا پینل تشکیل دینے کی یقین دھانی کرائی گئی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: محمود خان اچکزئی پارلیمنٹ ہاؤس پی ٹی آئی نے کہا
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔