چوائس نمبر پلیٹس کی تاریخی نیلامی، ’’وزیرستان 1‘‘ چار کروڑ سے زائد میں فروخت
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
قیوم اسپورٹس کمپلیکس کے ارینا ہال میں پرسنلائزڈ مارکس چوائس نمبر پلیٹس کی شاندار نیلامی زور و شور سے جاری ہے، جہاں عوام کی غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
مہنگی ترین بولیوں نے اس تقریب کو ایک یادگار ایونٹ میں تبدیل کر دیا ہے اور مختلف منفرد نمبر پلیٹس بڑی رقوم میں فروخت ہو رہی ہیں۔
تازہ ترین اپ ڈیٹس کے مطابق ’’وزیرستان 1‘‘ چوائس نمبر پلیٹ سب سے زیادہ قیمت پر فروخت ہونے والی پلیٹ بن گئی ہے۔
یہ نمبر پلیٹ 4 کروڑ اور 6 لاکھ روپے میں خریدی گئی، جو اب تک کی نیلامیوں میں لگنے والی سب سے بڑی بولی قرار دی جا رہی ہے۔ یہ اعزاز فیض الرحمان کے حصے میں آیا جنہوں نے یہ ریکارڈ توڑ بولی دے کر نمبر پلیٹ اپنے نام کر لی۔
نیلامی کے دوران ’’مہمند 1‘‘ نمبر پلیٹ پر بھی غیر معمولی مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ یہ پلیٹ 3 کروڑ اور 21 لاکھ روپے میں فروخت ہوئی اور اسے حاجی ظاہر گل نے خریدا۔ یوں یہ اب تک کی دوسری بڑی بولی ثابت ہوئی۔
اس کے علاوہ ’’پشتون 1‘‘ چوائس نمبر پلیٹ بھی نمایاں رہی، جس پر تیسری بڑی بولی لگی۔ یہ نمبر پلیٹ 1 کروڑ اور 32 لاکھ روپے میں فروخت کی گئی۔
تقریب میں شریک افراد کی دلچسپی اور جوش و خروش سے واضح ہے کہ منفرد اور شناختی نوعیت کی نمبر پلیٹس کے حصول کے لیے خریدار بڑی سے بڑی رقم خرچ کرنے کو تیار ہیں۔
ارینا ہال میں جاری اس نیلامی کے دوران مزید چوائس نمبر پلیٹس پر بولی کا عمل بدستور جاری ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ بھی نئی ریکارڈ ساز بولیاں سامنے آسکتی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نمبر پلیٹس
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔