رمضان ریلیف پیکج کا اجرا، ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے دیئے جائیں گے: وزیراعظم
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اجرا کر دیا، ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے با برکت مہینے کی آمد آمد ہے ، اس بابرکت ماہ میں مسلمان دکھی انسانیت کے لئے اپنے وسائل تقسیم کرتے ہیں ، حکومت نے ماضی میں رمضان شریف میں عوام کو ریلیف کی فراہمی فرسودہ نظام کو ختم کر دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان لمبارک میں پہلے یوٹیلیٹی سٹورز کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جاتا تھا، یوٹیلیٹی سٹورز پراشیا خورد و نوش کا معیار انتہائی ناقص تھا، یوٹیلیٹی سٹورز سے اشیاء کی خریداری کا عمل بھی تکلیف دہ تھا، ہم نے گزشتہ سال اس فرسودہ نظام کو خیر آباد کہہ دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال رمضان میں ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حقداروں کو نقد رقوم منتقل کی گئیں، نئے نظام کو متعارف کرانے میں بے شمار چیلنجز تھے جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے، عوام کی شکایات سننے اور ان کے ازالے کے لیے سیل قائم کیا گیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ گزشتہ سال رمضان میں 20ارب کی رقم شفاف طریقے سے مستحقین میں بلا تاخیر تقسیم ہوئی، رواں سال رمضان ریلیف پیکج کے تحت 38ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ رقم نہ صرف چاروں صوبوں بلکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مستحق خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔شہباز شریف نے کہا کہ مستحق خاندانوں کو بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے زریعے ادائیگیاں کی جائیں گی، 38 ارب روپے ایک کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں میں تقسیم کے جائیں گے، ہرمستحق خاندان کو بلا امتیاز اور بلا تفریق 13000 روپے دیے جائیں گے، پروگرام پر موثر عمل درآمد کے لیے اس کا تواتر سے جائزہ لوں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔