data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد: 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اجرا کر دیا گیا، ہر مستحق خاندان کو 13 ہزار روپے دیئے جائیں گے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رمضان کے با برکت مہینے کی آمد آمد ہے ، اس بابرکت ماہ میں مسلمان دکھی انسانیت کے لئے اپنے وسائل تقسیم کرتے ہیں ، حکومت نے ماضی میں رمضان شریف میں عوام کو ریلیف کی فراہمی فرسودہ نظام کو ختم کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ رمضان لمبارک میں پہلے یوٹیلیٹی اسٹورز کے ذریعے ریلیف فراہم کیا جاتا تھا، یوٹیلیٹی اسٹورز پراشیا خورد و نوش کا معیار انتہائی ناقص تھا، یوٹیلیٹی اسٹورز سے اشیاء کی خریداری کا عمل بھی تکلیف دہ تھا، ہم نے گزشتہ سال اس فرسودہ نظام کو خیر آباد کہہ دیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ سال رمضان میں ڈیجیٹل نظام کے ذریعے حقداروں کو نقد رقوم منتقل کی گئیں، نئے نظام کو متعارف کرانے میں بے شمار چیلنجز تھے جو کامیابی سے ہمکنار ہوئے، عوام کی شکایات سننے اور ان کے ازالے کے لیے سیل قائم کیا گیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ مستحق خاندانوں کو بینک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل والٹس کے زریعے ادائیگیاں کی جائیں گی، 38 ارب روپے ایک کروڑ 21 لاکھ مستحق خاندانوں میں تقسیم کے جائیں گے، ہرمستحق خاندان کو بلا امتیاز اور بلا تفریق 13000 روپے دیے جائیں گے، پروگرام پر موثر عمل درآمد کے لیے اس کا تواتر سے جائزہ لوں گا۔

ویب ڈیسک عادل سلطان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟