وزیراعظم کا رمضان ریلیف پیکج کا اعلان، رقم 20 ارب سے بڑھا کر 38 ارب روپے کردی
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے 38 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اعلان کردیا۔وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کے اجرا کی تقریب کے دوران سیکرٹری بی آئی ایس پی نے بریفنگ دیتے ہوئے شہباز شریف کو بتایا کہ اس سال رمضان پیکج کے تحت رقم 13 ہزار روپے کردی گئی ہے، پیکج کا مقصد مستحق افراد کو باعزت ریلیف فراہم کرنا ہے۔سیکرٹری بی آئی ایس پی نے بتایا کہ 2025 میں رمضان پیکج کے تحت مستحقین کو 5 ہزار روپے دیے گئے تھے، مستحق افراد کور قوم بینکوں کے ذریعے براہ راست فراہم کی جائیں گی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعظم رمضان ریلیف پیکج کا حجم 38 ارب روپے ہے، وزرا پر مستمل کمیٹی رمضان پیکج کے تمام مراحل کی نگرانی کرے گی، وزیراعظم خود اس نظام کی نگرانی کر رہے ہیں۔وزیراعظم شہباز شریف کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا پچھلے سال رمضان میں مستحقین کو ڈیجیٹل نظام کے ذریعے رقم فراہم کی، پچھلے سال رقم 20 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، اس سال رمضان پیکج کے تحت 38 ارب روپے مقرر کیے ہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر میں رقم شفاف نظام کے ذریعے رمضان ریلیف پیکج کی رقم تقسیم ہوگی، مستحقین کو فی خاندان 13 ہزار روپے دیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رمضان ریلیف پیکج رمضان پیکج کے شہباز شریف ارب روپے پیکج کا
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز