یقین دلاتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی کا آنکھوں کے بہترین اسپتال میں اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے علاج کروایا جائے گا، عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو علاج کے لیے کون سے اسپتال منتقل کیا جائے گا، اس بارے میں کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا، تاہم یہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کا آنکھوں کے اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے علاج کروایا جائے گا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں عمران خان کی آنکھ کی 85 فیصد نظر جانے کی کوئی بات نہیں تھی، ڈاکٹرز نے کنفرم کیا تھا کہ ان کی آنکھ کے ساتھ سیریس ایشو نہیں ہے۔ ان کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا جائے گا، تاہم یہ ابھی نہیں کہا جا سکتا کہ انہیں کس اسپتال منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ یقین دلاتے ہیں کہ عمران خان کی آنکھ کا مکمل علاج اسپیشلسٹ ڈاکٹرز سے کروایا جائے گا۔ عمران خان کو جیل میں جو سہولیات حاصل ہیں وہ کسی اور قیدی کو میسر نہیں، جیل میں کسی قیدی کے پاس ٹریڈمل اور ورزش کے لیے بائیسیکل نہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کا بروقت علاج ہوگا۔ یہ تاثر غلط ہے کہ عمران خان کے لیے کوئی ڈیل کا معاملہ کیا جا رہا ہے، جس سے ہر کوئی مطمئن ہوگا۔ ان کی صحت پر سیاست نہ کرنا چاہتے ہیں، نہ کرنی چاہیے۔ ان کو پروسیجر کے تحت بروقت علاج معالجہ فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کے معائنے کے لیے بہترین طبی ماہرین کی رسائی ممکن بنائی جا رہی ہے۔ ہم نے درخواست کی ہے کہ صحت سے متعلق قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔ بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ ہے لیکن کوئی جانی خدشہ نہیں۔ کوشش ہے بہترین آئی اسپیشلسٹ سے ان کا علاج کروایا جائے۔
دوسری جانب عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں بتایا کہ چیف جسٹس نے بانی پی ٹی آئی سے عمران خان کی فون پر بیٹوں قاسم اور سلمان سے بات کروانے کا حکم دیا تھا، اب ہم تصدیق کررہے ہیں کہ عمران خان سے بیٹوں کی فون پر بات کروا دی گئی ہے۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان تقریباً 20 منٹ تک اپنے بچوں سے بات کرسکے۔ ان کے بیٹوں نے بتایا کہ اتنے عرصے بعد والد کی آواز سن کر عمران خان بے حد خوش ہوئے۔
علیمہ خان کا کہنا ہے کہ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ انہیں مناسب اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کے ذاتی ڈاکٹرز کی نگرانی میں ماہر ڈاکٹرز ہر ممکن کوشش کریں گے کہ عمران خان کی بینائی بحال ہوسکے۔
علیمہ خانم نے خبردار کیا کہ بروقت علاج میں تاخیر پہلے ہی عمران خان کی بینائی کو نقصان پہنچا چکی ہے اور مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کی فوری دیکھ بھال ناگزیر ہے تاکہ مستقل بینائی کے نقصان سے بچا جاسکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عمران خان کو ان کی صحت کے حق کے مطابق ہر ممکن طبی سہولت فوری طور پر فراہم کی جائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اڈیالہ جیل آنکھ عطاتارڑ علاج عمران خان وفاق وزیراطلاعات یقین دہانی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل ا نکھ عطاتارڑ علاج وفاق وزیراطلاعات یقین دہانی بانی پی ٹی ا ئی عمران خان کی عمران خان کو کہ عمران خان کروایا جائے کیا جائے گا منتقل کیا علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے کی آنکھ ہیں کہ کے لیے کیا جا
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔