سندھ کے سینئر صوبائی وزیر برائے اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن نے دعویٰ کیا ہے کہ جماعت اسلامی کے کارکنان نے سندھ اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
نجی میڈیا کے مطابق سندھ اسمبلی کے باہر پولیس کریک ڈاؤن اور جھڑپوں کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کو پہلے ہی بتایا گیا تھا کہ ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں، مگر مشتعل کارکنان نے اس کے باوجود ریڈ زون میں داخل ہو کر پتھراؤ کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ پولیس اور مقامی انتظامیہ جماعت اسلامی کے ساتھ رابطے میں تھیں اور انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ پرامن احتجاج کریں، لیکن اسمبلی میں داخل ہونے کی کوشش کے باعث حالات کشیدہ ہوئے۔
شرجیل میمن نے کہا: “جماعت اسلامی کے کارکن سندھ اسمبلی میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منعم ظفر (امیر جماعت اسلامی کراچی) کون ہوتے ہیں جو قانون ہاتھ میں لیں۔”
وزیر اطلاعات نے عوام پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سڑکیں بند ہونے سے عام شہری متاثر ہوتے ہیں، اور جماعت اسلامی کبھی شارع فیصل بلاک کر دیتی ہے، کبھی اسمبلی میں داخل ہو جاتی ہے۔
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی نے کراچی کے آٹھ ٹاؤن میں بھی بدترین صورتحال پیدا کی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے اسمبلی میں داخل سندھ اسمبلی شرجیل میمن کی کوشش کہا کہ

پڑھیں:

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔

وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن