باچاخان یونیورسٹی میں بھارتی ترانہ گانے والے طلبا کو خارج کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
یونیورسٹی میں دو روز قبل چند طلبہ کی جانب سے بھارتی ترانہ پیش گایا گیا اور نعرہ بازی کی گئی اور بعد ازاں اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ باچا خان یونیورسٹی میں بھارتی ترانہ گانے پر ڈسپلنری کمیٹی نے چار طالب علموں کو یونیورسٹی سے خارج کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق باچا خان یونیورسٹی میں دو روز قبل چند طلبہ کی جانب سے بھارتی ترانہ پیش گایا گیا اور نعرہ بازی کی گئی اور بعد ازاں اس اقدام کی ویڈیو سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی گئی۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے جامعہ کی ڈسپلنری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا جہاں کمیٹی کے 73 ویں اجلاس کے دوران واقعے میں ملوث فارمیسی ڈپارٹمنٹ کے چار طالب علموں کو فوری طور پر جامعہ سے نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ باچا خان یونیورسٹی کی جانب سے اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق مذکور چاروں طلبہ کی ہاسٹل سیٹس بھی فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ 13 فروری کو منعقدہ یونیورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی کے 73 ویں اجلاس کی سفارشات اور مجاز حکام کی منظوری کے بعد واقعے میں ملوث طالب علموں کو جامعہ کی حدود میں ریاست مخالف نعرے بلند کرنے یونیورسٹی اور ہوسٹل سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی پر خارج کردیا گیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ان طلبہ نے اشتعال دلانے اور قومی اتحاد کو پارہ کرنے کی نیت سے بھارت کا قومی ترانہ بھی گیا، واقعے کو ریکارڈ بھی کیا اور اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری بھی کی جو غیرقانونی اقدام ہے۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان طلبہ کی ہوسٹل سیٹس بھی منسوخ کردی گئی ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ فوری طور پر ہوسٹل خالی کردیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: یونیورسٹی میں بھارتی ترانہ طلبہ کی کی گئی
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔