Islam Times:
2026-07-23@23:41:19 GMT

ٹرمپ کے حامی حلقوں میں اختلافات

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

ٹرمپ کے حامی حلقوں میں اختلافات

اسلام ٹائمز: گرین کی دستبرداری کے بعد اس حلقے کے ووٹر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا اگلا نمائندہ کون ہوگا اور پارٹی کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی۔ درجنوں ووٹرز سے کی گئی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ ابھی غیر مستحکم اور بدلنے والا ہے۔ اکثر ووٹرز نے کہا کہ انہوں نے ابھی کسی امیدوار کے حق میں فیصلہ نہیں کیا، اور محض ٹرمپ کی توثیق ان کے ووٹ پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ گرین کے حلقے میں میگا کا پرچم بردار بننے کی یہ کشمکش، قومی سطح پر اس تحریک کے ارتقا کو نمایاں کرتی ہے۔ خصوصی رپورٹ:

امریکی ریاست جارجیا میں ہونے والے ریاستی انتخابات، ٹرمپ کی حمایت یافتہ تحریک میگا کے اندرونی اختلافات کے اظہار کا میدان بن گئے ہیں۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے بین الاقوامی شعبے کے مطابق ممکن ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ توقع کی ہو کہ ایک مقامی پراسیکیوٹر کی حمایت کے ذریعے مارجوری ٹیلر گرین کی جگہ لینے کی دوڑ میں وہ ری پبلکن امیدواروں کو پیچھے چھوڑ دیں گے، لیکن اس کے باوجود بارہ سے زائد ری پبلکن امیدوار اب بھی میدان میں ہیں۔ یوں جارجیا کے اس گہرے قدامت پسند علاقے کو ٹرمپ کے اثر و رسوخ اور میگا تحریک پر ان کی گرفت جانچنے کا امتحان بنا دیا گیا ہے۔

اس تناظر میں جارجیا کے شمال مغرب کے چار اضلاع کے سابق پراسیکیوٹر کیلی فلر کو 4 فروری کو ٹرمپ کی حمایت حاصل ہونے کے بعد اس حلقے کے انتخابات میں ممکنہ طور پر سبقت حاصل ہو گئی۔ ٹرمپ نے انہیں ماگا تحریک کے لیے ایک ’’راہ نما چراغ‘‘ قرار دیا۔ تاہم ٹرمپ کی حمایت کے باوجود، 10 مارچ کو ہونے والے خصوصی انتخابات، جن کے لیے قبل از وقت ووٹنگ پیر سے شروع ہو رہی ہے۔ مزید 14 ری پبلکن امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے مقابلے میں 3 ڈیموکریٹ امیدوار اور ایک آزاد امیدوار بھی میدان میں موجود ہے۔ جارجیا کے چودھویں انتخابی حلقے نے 2020 کے انتخابات میں گرین کی کامیابی کے بعد خود کو ماگا کا مضبوط قلعہ بنا لیا تھا، اور وہ تیزی سے ایک نمایاں قومی شخصیت بن گئی تھیں۔

اب گرین کی دستبرداری کے بعد اس حلقے کے ووٹر یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ان کا اگلا نمائندہ کون ہوگا اور پارٹی کی قیادت کس کے ہاتھ میں آئے گی۔ درجنوں ووٹرز سے کی گئی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مقابلہ ابھی غیر مستحکم اور بدلنے والا ہے۔ اکثر ووٹرز نے کہا کہ انہوں نے ابھی کسی امیدوار کے حق میں فیصلہ نہیں کیا، اور محض ٹرمپ کی توثیق ان کے ووٹ پر اثر انداز نہیں ہوگی۔ گرین کے حلقے میں میگا کا پرچم بردار بننے کی یہ کشمکش، قومی سطح پر اس تحریک کے ارتقا کو نمایاں کرتی ہے۔ اگرچہ ٹرمپ سے وفاداری اب بھی اختلاف کا باعث ہے، لیکن میگا کے مفہوم پر اتفاق رائے بتدریج کم ہوتا جا رہا ہے، ایک ایسا نام جو اب کہیں زیادہ متنوع اتحاد کا احاطہ کرتا ہے۔

ابھرتے ہوئے یہ اختلافات، نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں کانگریس پر ری پبلکن کنٹرول کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جبکہ ڈیموکریٹس کے لیے یہ موقع پیدا ہوتا ہے کہ وہ مسابقتی حلقوں میں اندرونی کشمکش سے فائدہ اٹھائیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، ووٹوں کی تقسیم کی صورت میں ڈیموکریٹ امیدوار شان ہیرس دوبارہ اتنی حمایت حاصل کر سکتے ہیں کہ دوسرے مرحلے تک پہنچ جائیں۔ اگر کسی امیدوار کو اکثریت حاصل نہ ہوئی تو دوسرا مرحلہ 7 اپریل کو ہوگا۔ اس ری پبلکن رکنِ کانگریس نے کہا کہ ٹرمپ کے ساتھ تلخ کلامی میں ٹرمپ نے انہیں ’’غدار‘‘ کہا، اس کے بعد وہ داغدار سیاست دان بن کر نہیں رہنا چاہتیں، اسی لیے انہوں نے اپنی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کی حمایت ری پبلکن ٹرمپ کی گرین کی کے لیے کے بعد

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف