Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:27:14 GMT

پاک بھارت دنگل آج کولمبو میں سجنے کو تیار

اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT

پاک بھارت دنگل آج کولمبو میں سجنے کو تیار

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کے سب سے بڑے مقابلے کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوگیا ہے، پاکستان اور بھارت کا میچ آج کولمبو میں کھیلا جائے گا۔ روایتی حریفوں کے درمیان میچ آج پاکستانی وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے شروع ہوگا جہاں بادلوں کے بھی برسنے کا امکان ہے۔

بھارتی ٹیم کے پاس بیٹنگ کا ہتھیار ہے تو پاکستانی شاہین بولنگ سے وار کریں گے۔ کولمبو میں آج بولنگ، بیٹنگ اور فیلڈنگ میں مہارت کا استعمال اور اعصاب کا امتحان اور صلاحیتوں کا اظہار ہوگا۔

گرین شرٹس نے ہلکی بوندا باندی کے ساتھ فیلڈنگ، بولنگ اور بیٹنگ کی بھرپور اور مکمل پریکٹس کی۔

بھارتی ٹیم نے بھی ٹریننگ کی اور پاکستان کے مسٹری اسپنر عثمان طارق کا مقابلہ کرنے کیلئے اُن کے نیٹ پر بولرز نے عثمان طارق کے انداز میں بیٹرز کو بولنگ کروائی تاہم بارش کے سبب بھارتی ٹیم پریکٹس مکمل نہیں کرسکی۔

دونوں ٹیمیں ایونٹ میں اب تک اپنے دو دو میچز کھیل چکی ہیں اور دونوں ہی فتحیاب ٹھہریں، تاہم آج کے میچ کی فاتح ٹیم گروپ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ جمالے گی۔

ٹیمیں ہاتھ ملائیں گی یا نہیں؟ دونوں کپتانوں کا یکساں جواب

کولمبو میں ہونے والی پریس کانفرنس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا کہ پاک بھارت مقابلے کو دوبارہ خالصتاً کھیل کی بنیاد پر دیکھا جائے، نہ کہ کسی سیاسی تناؤ کے تناظر میں۔

بھارتی میڈیا کی جانب سے سوال پوچھا گیا کہ اگر بھارتی کھلاڑی مصافحے کے لیے آگے بڑھیں تو کیا آپ ہاتھ ملائیں گے؟ اس سوال پر سلمان آغا نے براہِ راست ہاں یا ناں میں جواب دینے کے بجائے مختصر ردِعمل دیا کہ یہ کل پتہ چل جائے گا۔

بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان سوریا کمار یادیو نے پریس کانفرنس میں پاکستان بھارت کے میچ کے بعد کھلاڑیوں کے ہاتھ ملانے کے معاملے میں کہا کہ ہینڈ شیک کے لیے 24 گھنٹے انتظار کرلیں، کل دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کس کا پلڑا بھاری

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارتی ٹیم ریکارڈ کے اعتبار سے پاکستان پر حاوی ہے، دونوں ٹیمیوں کے درمیان اس فارمیٹ کے میگا ایونٹ میں 8 مقابلے ہوئے جس میں سے 7 بھارت نے جیتے ہیں، صرف ایک میں پاکستان کو فتح ملی ہے۔

یہ میچ پاکستان کے پہلے اسپورٹس چینل جیو سوپر پر براہ راست نشر کیا جائے گا جبکہ جیو نیوز پر میچ سے متعلق خصوصی ٹرانسمیشن بھی جاری رہے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس ٹاکرے میں کس کی فتح میں اضافہ ہوتا ہے یا پھر بارش یہ میچ بہالے جائے گی؟

پاکستان کا بنگلادیش سے اظہار یکجہتی، بھارت سے کھیلنے سے انکار

خیال رہے کہ بنگلادیش کی جانب سے بھارت میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں شرکت پر اپنی ٹیم کےلیے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے وینیوز کی تبدیلی کی درخواست کی تھی جسے آئی سی سی نے مسترد کردیا تھا۔

اس پر بنگلادیش نے احتجاجاً ایونٹ سے دستبرداری کا اعلان کیا تو آئی سی سی نے بنگلادیش سے بات کرنے کے بجائے ایونٹ سے بنگلادیش کو نکال کر اسکاٹ لینڈ کو شامل کرلیا۔

بعدازاں پاکستان نے کرکٹ کونسل کے اس اقدام کو دہرا معیار قرار دیا اور بنگلادیش کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بھارت کے خلاف گروپ میچ کے بائیکاٹ کا اعلان کرکے کرکٹ کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

بعدازاں آئی سی سی نے پاکستان کو منانے کی متعدد کوششیں کیں، تاہم اس سلسلے میں بریک تھرو 9 فروری کو آئی سی سی کی ڈپٹی چیئرمین، صدر بنگلادیش کرکٹ بورڈ اور چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے درمیان 4 گھنٹے سے زائد طویل ملاقات میں ہوا اور چیئرمین پی سی بی نے وزیراعظم شہباز شریف سے دوبارہ رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

وزیراعظم کی ٹیم کو بھارت کیخلاف کھیلنے کی اجازت

دریں اثنا سری لنکن صدر نے وزیراعظم شہباز شریف سے رابطہ کرکے انہیں پاکستان ٹیم کو بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ ختم کرکے اور ٹیم کو میچ کھیلنے کی اجازت دینے کی درخواست کی تھی۔

سری لنکن صدر کی درخواست پر وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے قومی ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 میں بھارت کے خلاف گروپ میچ کھیلنے کی اجازت دی اور دونوں ٹیمیں آج شیڈول کے مطابق گروپ اے کا اپنا میچ کھیلنے جارہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی ٹیم کولمبو میں ٹی ٹوئنٹی بھارت کے ٹیم کو ٹیم کے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا