کراچی: جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
کراچی میں سندھ اسمبلی کے باہر جماعت اسلامی کے احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس حکام کے مطابق حکومت کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ آرام باغ میں درج کر لیا گیا۔
مقدمہ انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے جس میں 30 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں گزشتہ روز جماعت اسلامی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے تھے، جماعت اسلامی کے کارکنوں نے سندھ اسمبلی جانے کی کوشش کی تھی جس پر رینجرز اہلکاروں کو طلب کیا گیا تھا۔
پولیس نے کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس کے باعث ایک کارکن زخمی ہوگیا تھا۔
ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے سندھ اسمبلی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں، مارچ کے شرکاء کو سندھ اسمبلی سے پہلے روک دیا گیا۔
آنسو گیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن زخمی ہوا جبکہ جماعت اسلامی کے کارکنوں کے پتھراؤ سے متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
پولیس نے جماعت اسلامی کا ساؤنڈ سسٹم لگا ٹرک قبضے میں لے لیا تھا جبکہ 10 کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا گیا تھا۔
بعدازاں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے کارکنان کو منتشر ہونے کی ہدایت کردی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے سندھ اسمبلی
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔