رمضان المبارک: میڈیا اور مذہبی شخصیات کے لیے ضابطہ اخلاق جاری، احترام اور رواداری کو ترجیح
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
پاکستان کے تمام میڈیا اداروں، اینکرز، خطباء اور مقررین کے لیے رمضان المبارک کے دوران ضابطہ اخلاق جاری کر دیا گیا ہے تاکہ مقدس مہینے میں دینی تقدس، سماجی امن اور قومی اتحاد کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ ضابطہ اخلاق لاہور میں مختلف مکاتب فکر کے علماء، مذہبی جماعتوں کے قائدین اور قومی پیغام امن کمیٹی کے اجلاس کے بعد مرتب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان نے بھارت کو شکست دی آپ کا تو معاملہ ہی بہت آسان ہے، طاہر اشرفی نے افغانستان کو خبردار کردیا
ضابطہ اخلاق کے مطابق رمضان المبارک میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ نہ صرف رائے عامہ تشکیل دیتا ہے بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، مذہبی رواداری اور قومی اتحاد کے فروغ میں بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اجلاس میں سفارش کی گئی کہ تمام پروگرامز اور مذہبی اجتماعات میں مقررین اور اینکرز اس بات کو اجاگر کریں کہ اسلام اختلاف کے باوجود امن، برداشت اور مکالمے کا درس دیتا ہے، نہ کہ تشدد یا تصادم کا۔ علماء، مشائخ اور مذہبی راہنما عوام کو درست اور غلط نظریات میں فرق سمجھائیں اور کسی فرد یا گروہ کو کافر قرار دینا ریاست کا اختیار ہے۔
پاکستان کے غیر مسلم شہریوں کو اپنے مذہب کے مطابق عبادت اور مذہبی رسومات ادا کرنے کے مکمل حقوق حاصل ہیں اور پروگرامز میں یہ اصول واضح طور پر پیش کیے جائیں۔ تمام مذہبی شخصیات، ذاکرین اور خطباء پر لازم ہے کہ وہ امت کو جوڑنے، نفرت کم کرنے اور معاشرتی امن کے فروغ میں کردار ادا کریں۔ اختلافی موضوعات جیسے تراویح کی رکعات یا سحر و افطار کے اوقات پر غیر ضروری بحث سے گریز کیا جائے اور کسی بھی پروگرام، خطاب یا گفتگو میں ایسا مواد شامل نہ کیا جائے جو فرقہ وارانہ نفرت یا عوامی جذبات کو بھڑکائے۔ انبیاء، صحابہ، خلفاء راشدین اور اہل بیت کے احترام کو مقدم رکھا جائے اور کسی بھی مذہبی شخصیت، مسلک یا عقیدے کے خلاف طنزیہ یا اشتعال انگیز گفتگو ناقابل قبول ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں:’وہ دن قریب ہے جب کشمیر بنے گا پاکستان‘، مولانا طاہر اشرفی کا کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی
اینکرز، مقررین یا مہمان کسی فرد یا گروہ کے ایمان پر فیصلہ صادر نہیں کر سکتے اور غیر مسلم شہریوں کے آئینی، مذہبی یا سماجی حقوق کو محدود یا مشکوک بنانے والی گفتگو منع ہے۔ ایسے واعظین یا مقررین جو سابقہ طور پر نفرت انگیزی یا سماجی اختلاف کا سبب بن چکے ہوں، انہیں پروگرام میں شامل نہ کیا جائے اور سیاسی جماعتوں یا شخصیات کے حوالے سے ایسی گفتگو جو عوام میں نفرت یا انتشار پیدا کرے، ممنوع ہے۔
یہ ضابطہ اخلاق لاہور میں ہونے والے مشترکہ اجلاس میں جاری کیا گیا، جس کی صدارت حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کی، اور اجلاس میں مولانا محمد اسلم صدیقی، مولانا عمر فاروق، مفتی فلک شیر، مولانا مبشر رحیمی، مولانا محمد اشفاق پتانی، مولانا عزیز اکبر قاسمی، مولانا سعد اللہ شفیق، مولانا نعمان حامد، مولانا عبد الباسط، مولانا ابراہیم حنفی، حافظ احتشام الحق آزاد، قاری فیصل امین، قاری ساجد اور دیگر نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ضابطہ اخلاق اور مذہبی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔