آپ کے نام پر کتنی سمز رجسٹرڈ ہیں؟ چیک کرنے کا طریقہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
ویب ڈیسک: پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایسے شہریوں کو خبردار کیا ہے جو اس بات سے لاعلم ہیں کہ ان کے نام پر کتنی سمز رجسٹرڈ ہیں۔
پی ٹی اے کی جانب سے مفاد عامہ میں جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ شہریوں کی سم ان کی شناخت ہے، یہ صرف ایک چِپ نہیں بلکہ ان کی ڈیجیٹل دنیا کی چابی ہے۔
پیغام میں کہا گیا کہ جعلی یا چوری شدہ سم کسی کے ہاتھ لگ جائے تو شہری کا ڈیٹا، بینک اکاؤنٹ حتیٰ کہ واٹس ایپ بھی غیر محفوظ ہو سکتا ہے، ابھی چیک کریں کہ آپ کے قومی شناختی کارڈ پر کتنی سمز رجسٹرڈ ہیں۔
ناکوں پر بدتمیزی کا کلچر ختم ؛وزیراعلیٰ پنجاب کی پولیس صلاحات کیلئے 3 ماہ کی ڈیڈ لائن مقرر
پی ٹی اے نے طریقہ کار بتایا کہ شہری اپنا شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر بھیجیں اگر کوئی غیر متعلقہ سم نظر آئے تو فوراً بلاک کروائیں، اپنی شناخت کا تحفظ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔