کارکنان پر شیلنگ و لاٹھی چارج، پیپلز پارٹی سے حساب لینگے، منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2026 GMT
کراچی (نیوزڈیسک)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی آمریت قائم ہے۔ انہوں نے ہمارے لوگوں پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کیا، پیپلز پارٹی کو اس کا حساب دینا ہوگا۔
کراچی میں جماعت اسلامی کے مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے منعم ظفر نے کہا کہ کچے کے ڈاکوؤں کی سرپرستی کرتے ہو، آئین کی بات کرنے والوں پر تشدد کرتے ہو، 24 سے زائد افراد گرفتار ہیں اور پانچ افراد شدید زخمی ہیں۔
منعم ظفر نے کہا کہ ہم تو اس شہر کا مقدمہ لڑ رہے تھے، اس شہر کے حق کی بات کی۔ یہ لوگوں کو اختیار دینے سے ڈرتے ہیں، تم ترمیم کی بات کرتے ہو کہاں ہے وہ ترمیم؟
انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی فرینڈلی سیاست کر رہے ہیں، اٹھارہویں ترمیم کے بعد بھی اختیار دینے کے لیے تیار نہیں ہیں، کراچی کو پانی چاہیے، 50 فیصد شہر آج بھی پانی سے محروم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔