پاکستان کو بھارت سے مسلسل شکستوں کا سامنا، کرکٹ سسٹم پر سوالات اٹھنے لگے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان کرکٹ ٹیم کو بھارت قومی کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں چار ماہ میں چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ وائٹ بال فارمیٹ میں قومی ٹیم گزشتہ برسوں میں روایتی حریف کے خلاف بدترین کارکردگی دکھا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 16 میں سے 13 میچ ہارے ہیں جس کے بعد شائقین کرکٹ میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے اور کرکٹ نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھارت نے پاکستان کے خلاف مسلسل آٹھویں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل 2017 کے بعد سے پاکستان کی فتوحات نہایت محدود رہی ہیں۔ پاکستان نے آخری بار 4 ستمبر 2022 کو دبئی میں ٹی ٹوئنٹی میچ میں بھارت کو شکست دی تھی، جس کے بعد دونوں ٹیموں کے درمیان ہونے والے تمام میچز میں بھارت کامیاب رہا ہے۔
کولمبو میں ہونے والے حالیہ میچ میں پاکستانی بولنگ کارکردگی نمایاں طور پر غیر متوازن رہی۔ سلمان علی آغا، عثمان طارق، محمد نواز اور صائم ایوب نے 14 اوورز میں 87 رنز دیے، جبکہ شاہین شاہ آفریدی، ابرار احمد اور شاداب خان نے صرف 6 اوورز میں 86 رنز دے کر میچ کا رخ بھارت کی جانب موڑ دیا۔ فہیم اشرف کو مسلسل تیسرے میچ میں بولنگ کا موقع نہ دینا بھی ایک اہم سوال بن گیا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں بھی بھارت کا پلڑا بھاری رہا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان کھیلے گئے 9 میچوں میں بھارت نے 8 میں کامیابی حاصل کی جبکہ پاکستان کو واحد فتح 2021 میں دبئی میں ملی تھی۔ اس کے بعد میلبرن اور نیویارک سمیت مختلف مقامات پر ہونے والے اہم میچز میں بھی پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس سے قومی ٹیم کی حکمت عملی اور نظام پر تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :