ویب ڈیسک: اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے رمضان المبارک 2026 کے پیش نظر سڑکوں اور عوامی مقامات پر رمضان دستر خوان کے انتظامات کے لیے سرکاری اجازت نامہ لازمی قرار دے دیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ فیصلہ کیا ہے، اسٹریٹ افطار کے انتظامات میں دلچسپی رکھنے والے تمام افراد مکمل تفصیلات کے ساتھ اپنی درخواستیں جمع کرا سکتے ہیں۔

پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے میڈیکل سہولیات بند

ترجمان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ جگہ کی نشاندہی اور سیکیورٹی سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی، ترجمان کے مطابق اسسٹنٹ کمشنرز اجازت نامہ جاری کرنے سے قبل مجوزہ جگہوں کا معائنہ کریں گے۔

حکومت کی جانب سے اعلان کے بعد اب تک وفاقی دارالحکومت سے 18 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ رجسٹریشن کے بغیر شہر کے کسی بھی حصے میں عوامی افطار کے انتظام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

پنجاب حکومت نے بیوہ کفالت کارڈ کی منظوری دے دی

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد افطار کے اوقات میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا، ہجوم کو کنٹرول کرنا اور عوامی مقامات پر نظم و ضبط قائم رکھنا ہے۔ رمضان کے دوران انفورسمنٹ ٹیمیں شہر کے مختلف حصوں کی نگرانی کریں گی اور بغیر اجازت لگائے گئے اسٹالز یا انتظامات کو ہٹایا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ رمضان المبارک کا آغاز 19 فروری سے ہونے کا امکان ہے، سپارکو  کے مطابق 1447 ہجری کے رمضان کا چاند 18 فروری کو نظر آنے کا قوی امکان ہے، جبکہ نئے چاند کی پیدائش 17 فروری کو پاکستانی وقت کے مطابق شام 5 بج کر 1 منٹ پر ہوگی۔

عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 6/6 اور دوسری کی عینک لگا کر 70 فیصد ہے: وزیر قانون

 
 
 

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب