قابض اسرائیلی فوج کو 12 ہزار اہلکاروں کی کمی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
قابض اسرائیلی ریجیم کے عبری میڈیا کا کہنا ہے کہ صیہونی فوج کو کئی ایک محاذوں پر تقریباً 2 سال کی مسلسل لڑائی کے بعد اب ہزاروں فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے اسلام ٹائمز۔ قابض اسرائیلی ریجیم کے معروف عبری اخبار یدیعوت احرونوت (Yedioth Ahronoth) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج کو اس وقت مختلف شعبوں میں تقریبا 12 ہزار اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے جن میں سے تقریبا 7 ہزار 500 سپاہیوں کی جنگی یونٹوں میں ضرورت ہے۔ اس اعداد و شمار کا اعلان حالیہ مہینوں کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ (کینسٹ) کی خارجہ تعلقات و سلامتی کمیٹی کو جمع کروائی گئی سرکاری رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا۔ مذکورہ رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ فوجی کارروائیوں کے دائرہ کار میں توسیع اور غزہ کی پٹی میں نیز لبنان و شام کے ساتھ شمالی سرحدوں پر فورسز کی وسیع تعیناتی اور مغربی کنارے میں جاری فوجی آپریشن، اس قلت کا سبب بننے والے اہم عوامل میں سے ہیں۔
اسرائیلی اخبار کے مطابق اس صورتحال نے آپریشنل بوجھ میں بہت زیادہ اضافہ کیا ہے جس سے فعال و ریزرو فورسز پر بھی اضافی دباؤ پڑا ہے۔ قابض صیہونی ریجیم کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج کے پاس اس وقت تقریبا 1 لاکھ 70 ہزار فعال فوجی موجود ہیں جبکہ 4 لاکھ تا 4 لاکھ 60 ہزار ریزرو کے طور پر بھی رجسٹرڈ ہیں۔ اسرائیلی فوجی ڈھانچے کا روایتی طور پر، ریزرو فورسز پر انحصار رہا ہے جبکہ اس ماڈل کا، 1948 میں اس ریجیم کے قیام کے بعد سے اپنی محدود آبادی اور متعدد محاذوں پر بیک وقت جنگوں کے لئے ہر وقت تیار رہنے کی وجہ سے انتخاب کیا گیا۔ اس ماڈل میں اپنی فوجی خدمات مکمل کر لینے والے افراد کو بھی ہنگامی حالات میں طلب کر لیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج ریجیم کے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔