اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر حاکمیت کا کوئی حق حاصل نہیں، سعودی عرب
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
سعودی عرب نے، قابض صیہونی ریجیم کیجانب سے مغربی کنارے کی اراضی کو "ریاستی ملکیت" میں تبدیل کرنیکے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ایسا غیر قانونی فعل قرار دیا ہے کہ جسکا کوئی قانونی جواز نہیں اسلام ٹائمز۔ سعودی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے قابض صیہونی ریجیم کی جانب سے مغربی کنارے کی اراضی کو "ریاستی ملکیت" میں تبدیل کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی اور اسے ایک ایسا غیر قانونی فعل قرار دیا ہے کہ جس کا کوئی قانونی جواز نہیں۔ عرب چینل الجزیرہ کے مطابق اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ قابض صیہونی ریجیم کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر حاکمیت کا کوئی حق حاصل نہیں اور سعودی عرب ان سب علاقوں میں اسرائیل کے تمام غیر قانونی اقدامات کو یکسر مسترد کرتا ہے۔ اپنے بیان میں ریاض نے اعلان کیا کہ یہ فیصلہ مغربی کنارے میں ایک نئی قانونی و انتظامی مساوات کو مسلط کرنے کے گھناؤنے صیہونی منصوبوں کا حصہ ہے۔
سعودی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف خطے بھر میں جاری امن و استحکام کے حصول کے عمل کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ مسئلہ فلسطین کے منصفانہ اور دیرپا حل کے حصول میں بھی سنگین رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ اپنے بیان کے آخر میں سعودی وزارت خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی حاکمیت کو کسی طور تسلیم نہیں کرتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کا کوئی
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔