عمران خان کو جان لیوا بیماری لاحق ہو تو انہیں بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے: دانیال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
اسلام آباد: وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا ہے کہ اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کو کوئی جان لیوا بیماری لاحق ہو اور اس کے قانونی شواہد موجود ہوں تو زندگی بچانے کے لیے انہیں بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے. بصورت دیگر ایسا ممکن نہیں۔
وفاقی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات بیرسٹر دانیال چوہدری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی مبینہ ڈیل کے حوالے سے کوئی بھی بات چیت صرف پارلیمانی قوتوں کے ذریعے ہو سکتی ہے۔ بیرون ملک علاج کا واحد راستہ قانونی شہادت کے تحت جان لیوا بیماری کے ثبوت کی صورت میں ہی ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے علاج کے لیے تمام ضروری سہولیات جیل میں دستیاب ہیں۔ اور آئندہ بھی فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ علاج کے معاملے میں کوئی کوتاہی برتی جا رہی ہے۔بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ حکومت عمران خان کے علاج کے حوالے سے سنجیدہ ہے۔ اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے پروپیگنڈے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈیل یا ڈھیل کے خواہشمند ابتدا سے ایسی کوششیں کرتے رہے ہیں اور مختلف بہانے تلاش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت ہونی ہے تو صرف پارلیمانی راستہ ہی قابل قبول ہو گا۔ بلیک میلنگ، دھرنے یا دباؤ کی سیاست کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایسے اقدامات سے نہ ملک کو فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی کسی کو ریلیف ملے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: دانیال چوہدری انہوں نے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔(جاری ہے)
انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔