سزائےموت,عمر قید کے مقدمات ڈیڑھ ماہ میں نمٹانےکاہدف
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: عدالت عظمیٰ نے سزائے موت اور عمر قید کے مقدمات میں تیزی دکھاتے ہوئے آئندہ 45 دنوں میں نمٹانے کا ہدف مقرر کر دیا۔
عدالت عظمیٰ کے اعلامیے کے مطابق اکتوبر 2024 سے فوجداری مقدمات کی زیر التوا تعداد 19 ہزار 549 سے کم ہو کر 12 ہزار 705 رہ گئی۔
9 تا 14 فروری کے دوران سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 354 فوجداری مقدمات نمٹائے گئے، رواں ہفتے سزائے موت اور عمر قید سے متعلق 131 نئے مقدمات دائر ہوئے۔
عدالت عظمیٰ نے ملازمین کی برطرفی کے دوران تنخواہ نہ دینا آئینی جرم قرار دے دیا
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نمٹائے گئے مقدمات کی شرح دائر ہونے والے مقدمات سے تقریباً 270 فیصد زیادہ رہی، جنوری 2026 تک کے تمام زیر التوا سزائے موت کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے گا۔
عدالت عظمیٰ نے بتایا کہ مخصوص بینچز، اصلاحاتی گروپس اور عدالتی ٹیمیں مربوط حکمت عملی کے تحت اہداف کے حصول کےلیے سرگرم ہیں۔
اعلامیہ کے مطابق چیف جسٹس نے زیر سماعت قیدیوں سے متعلق جیل پٹیشنز کو منظم اور تیز بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں ۔
جیل پٹیشنز کے دائر ہونے سے فیصلے تک واضح اور قابلِ پیشگوئی ٹائم لائن متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔
فوجداری مقدمات میں جمود کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عدالت عظمی سزائے موت
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔