مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ حالات ثابت کرچکے ہیں کہ مسلمان فرقہ واریت میں تقسیم نہیں ہوسکتے اور رمضان اللہ سے تعلق مضبوط کرنے اور اجتماعی مسائل کے حل کی جدوجہد کا مہینہ ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
مقبوضہ کشمیر میں علماء کرام و ائمہ جماعت کی مشترکہ استقبال ماہ رمضان تقریب
اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر انجمن شرعی شیعیان کے زیر اہتمام تنظیم کے صدر دفتر بڈگام میں حسب عمل قدیم علماء کرام و ائمہ جماعت جموں کشمیر استقبال ماہ رمضان کے سلسلے میں ایک باوقار اور فکری نشست منعقد ہوئی، جس میں مختلف و مذہبی انجمنوں کے سربراہان و نمائندگان، ممتاز علماء کرام، ائمہ جمعہ، دانشور حضرات اور سماجی زعماء کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، جس کی سعادت حافظ مزمل نے حاصل کی، جبکہ نعت رسول اکرم (ص) پیش کرنے کی سعادت شاہد حسین میر کے حصے میں آئی۔ نظامت کے فرائض مولانا سید محمد حسین صفوی نے خوش اسلوبی سے انجام دئے۔ تقریب کے استقبالیہ کلمات مولانا آغا سید مجتبیٰ عباس الموسوی الصفوی نے ادا کئے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اسلام آباد میں پیش آئے دہشت گردانہ خودکش حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور سرینگر کی جامع مسجد کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گاہوں کو بند کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، بلکہ عوام کے لئے ہر ممکن سہولیات فراہم کی جانی چاہئیں۔اس موقع پر انجمن شرعی شیعیان کے شعبۂ تبلیغ سے وابستہ متعدد ائمہ جمعہ اور دیگر علماء کرام بھی موجود تھے۔ میرواعظ وسطیٰ کشمیر سید عبد اللطیف بخاری نے رمضان کو نیکیوں کی بہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ مغفرت و رحمت کا پیغام لاتا ہے، جو اہلبیت (ع) کے سائے میں اتحاد و امن کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے پاکستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی شدید مذمت کی۔ مولانا خاکی فاروقی نے قرآن مجید سے وابستگی کو ماہ رمضان کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسی کی طرف رجوع اس مہینے کا اصل مقصد ہے۔ ڈاکٹر سید مدثر رضوی نے صدر انجمن شرعی شیعیان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وحدت امت کے لیے ان کی کوششیں قابل تحسین اور باعث فخر ہیں۔ مولانا مفتی مدثر قادری نے کہا کہ مسئلہ قدس اور مظلوموں کی حمایت کسی ایک مکتب فکر تک محدود نہیں، بلکہ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مولانا مسرور عباس انصاری کے نمائندے مولانا بلال حسین نے کہا کہ رمضان محض بھوکا رہنے کا نام نہیں، بلکہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے اور اجتماعی ذمہ داری نبھانے کا پیغام دیتا ہے۔ سید ارشد موسوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ماہ رمضان صبر و تحمل، برداشت اور صلہ رحمی کا عملی درس دیتا ہے۔ میرواعظ حسن افضل فردوسی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جب کلمہ، قرآن اور کعبہ ایک ہیں تو امت میں تفرقے کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے یوم قدس کو پوری امت مسلمہ کا مشترکہ مسئلہ قرار دیا۔ میرواعظ ڈاکٹر عمر فاروق نے کہا کہ حالات ثابت کرچکے ہیں کہ مسلمان فرقہ واریت میں تقسیم نہیں ہو سکتے، اور رمضان اللہ سے تعلق مضبوط کرنے اور اجتماعی مسائل کے حل کی جدوجہد کا مہینہ ہے۔ آخر میں مفتی ناصر الاسلام نے فلسفۂ رمضان پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ مہینہ باقی گیارہ مہینوں کے لئے تربیت فراہم کرتا ہے اور اس کا اصل مقصد انسان کو گناہوں سے روکنا ہے۔
تقریب کے اختتامی خطبۂ صدارت میں صدر محفل مولانا آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے تمام علماء اور معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان رحمت اور مغفرت کے تحفے کے طور پر عطا کیا ہے، جس سے بھرپور استفادہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ماہ مقدس رمضان کے دوران جامع مسجد کو ہر صورت کھلا رکھا جائے، کیونکہ یہ وادی کشمیر میں عبادت، دینی اجتماع اور روحانی مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کی بندش سے عوام کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے مظلوموں کی حمایت، ان کی کامیابی اور عالم اسلام کے اتحاد و یکجہتی کے لئے خصوصی دعا کی، جس کے ساتھ ہی تقریب اختتام پذیر ہوئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہوئے کہا کہ نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔