قانون کی حکمرانی اور معیشت کی مضبوطی کے بغیر ترقی ممکن نہیں، گورنر سندھ
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
تقریب سے خطاب کے دوران کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ہمیں ہر شعبے کی چمک دکھا دی ہے، لیکن ہمیں سب سے پہلے ایک اچھا پاکستانی بننے کی ضرورت ہے، معرکہ حق کے بعد اب ہمیں معرکہ معیشت اور معرکہ انصاف جیتنے کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری/چانسلر نے بحیثیت مہمان خصوصی شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء(SZABUL) کے دوسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی تقریب کے اصل مہمانِ خصوصی طلبہ کے والدین ہیں، جنہوں نے انگلی پکڑ کر اپنے بچوں کو اس مقام تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی محنت، دعاؤں اور قربانیوں کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ یہ ادارہ قانون کی تعلیم فراہم کرتا ہے، تاہم ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو قانون پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی کمزور حکمرانی کے باعث عدالتی نظام مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر سکا اور یہی کمزوری معاشرتی مسائل کی اصل جڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور بے ایمانی معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں اور ناجائز دولت کو بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا، جو لمحہ فکریہ ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگر پاکستان کو ترقی اور معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو بے ایمانی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے گورنر سندھ نے کہا کہ ہر کانووکیشن میں طالبات کی تعداد نمایاں ہوتی ہے، مگر عملی زندگی میں ان کی نمائندگی کم دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے ماؤں سے اپیل کی کہ گولڈ میڈلسٹ بیٹیوں کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن خواتین بھرپور انداز میں قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گی، کرپشن میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ہمیں ہر شعبے کی چمک دکھا دی ہے، لیکن ہمیں سب سے پہلے ایک اچھا پاکستانی بننے کی ضرورت ہے۔ گورنر سندھ نے 10 مئی کو دفاعی اداروں کی جانب سے دشمن کو دیے گئے منہ توڑ جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قوم کا سر فخر سے بلند ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گورنر سندھ نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔