تقریب سے خطاب کے دوران کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ہمیں ہر شعبے کی چمک دکھا دی ہے، لیکن ہمیں سب سے پہلے ایک اچھا پاکستانی بننے کی ضرورت ہے، معرکہ حق کے بعد اب ہمیں معرکہ معیشت اور معرکہ انصاف جیتنے کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھنا ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری/چانسلر نے بحیثیت مہمان خصوصی شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی آف لاء(SZABUL) کے دوسرے کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج کی تقریب کے اصل مہمانِ خصوصی طلبہ کے والدین ہیں، جنہوں نے انگلی پکڑ کر اپنے بچوں کو اس مقام تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی محنت، دعاؤں اور قربانیوں کے بغیر یہ کامیابیاں ممکن نہیں تھیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ یہ ادارہ قانون کی تعلیم فراہم کرتا ہے، تاہم ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو قانون پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنائے۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون کی کمزور حکمرانی کے باعث عدالتی نظام مطلوبہ رفتار حاصل نہیں کر سکا اور یہی کمزوری معاشرتی مسائل کی اصل جڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور بے ایمانی معاشرے میں سرایت کر چکے ہیں اور ناجائز دولت کو بھی معیوب نہیں سمجھا جاتا، جو لمحہ فکریہ ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ اگر پاکستان کو ترقی اور معاشی استحکام کی راہ پر گامزن کرنا ہے تو بے ایمانی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ خواتین کی تعلیم کے حوالے سے گورنر سندھ نے کہا کہ ہر کانووکیشن میں طالبات کی تعداد نمایاں ہوتی ہے، مگر عملی زندگی میں ان کی نمائندگی کم دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے ماؤں سے اپیل کی کہ گولڈ میڈلسٹ بیٹیوں کو عملی میدان میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جس دن خواتین بھرپور انداز میں قومی دھارے میں شامل ہو جائیں گی، کرپشن میں نمایاں کمی آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا نے ہمیں ہر شعبے کی چمک دکھا دی ہے، لیکن ہمیں سب سے پہلے ایک اچھا پاکستانی بننے کی ضرورت ہے۔ گورنر سندھ نے 10 مئی کو دفاعی اداروں کی جانب سے دشمن کو دیے گئے منہ توڑ جواب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قوم کا سر فخر سے بلند ہوا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گورنر سندھ نے کہا کہ انہوں نے

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن