تحریک تحفظ آئین پاکستان کے نام سے قائم اپوزیشن اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر جاری دھرنا ختم نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: کے پی ہاؤس کا دھرنا پارلیمنٹ منتقل کرنے کا پروگرام، محمود اچکزئی نے سہیل آفریدی کو اپنے پاس بلا لیا

اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و سابق اسپیکر اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت جاری ہے، تاہم فی الحال مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیاکہ بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے، جبکہ پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ کی ملاقات بھی یقینی بنائی جائے۔

اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر دوبارہ دھرنا دیا گیا اور پارلیمنٹیرنز نے نعرے بازی کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سے قبل ہونے والے مشاورتی اجلاس میں سوشل میڈیا پر چلنے والی مبینہ پروپیگنڈا مہم اور بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔

بعض اراکین نے اس بات پر وضاحت طلب کی کہ پارٹی معاملات کی قیادت علیمہ خان اور فیملی کرے گی یا سیاسی کمیٹی۔

صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر، شہریار آفریدی اور دیگر اراکین کا کہنا تھا کہ 3 روز سے دھرنا جاری ہونے کے باوجود سوشل میڈیا پر انہی کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: محسن نقوی نے عمران خان کی رہائی کے لیے بہت کوشش کی، اب وہ ہمارے دھرنے سے رہا نہیں ہوں گے، علی امین گنڈاپور

واضح رہے کہ اپوزیشن اتحاد کا مطالبہ ہے کہ عمران خان کی آنکھ کا علاج کرانے کے ساتھ ساتھ ان تک رسائی بھی دی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews اپوزیشن اتحاد اعلان دھرنا جاری محمود اچکزئی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اپوزیشن اتحاد اعلان محمود اچکزئی اپوزیشن اتحاد

پڑھیں:

‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو

راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) ‏علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔

(جاری ہے)

علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔

عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔

علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات کرا دی گئی
  • اڈیالہ جیل میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقات
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان