مہدی شاہ کے دور میں نوکریاں برائے فروخت رہیں، ترجمان استحکام پاکستان پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ترجمان کے مطابق سابق گورنر، سابق وزیر اعلیٰ، دو سابق اپوزیشن لیڈرز اور 5 صوبائی وزراء کی شمولیت کے مضبوط ترین سیاسی پارٹی بن چکی ہے جس کی وجہ سے سید مہدی شاہ بوکھلا ہٹ کا شکار ہو کر من گھڑت بیانات دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان استحکام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان نے گورنر گلگت بلتستان کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید مہدی شاہ کے دور میں سرکاری نوکریاں برائے فروخت دستیاب رہی ہیں اور لین دین کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں، اس لئے استحکام پاکستان پارٹی پر بھی لین دین کے الزامات لگا رہے ہیں جو کہ بے بنیاد ہیں۔ترجمان کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کی حیثیت اور مقصد کا اندازہ اگلے عام انتخابات میں ہو جائے گا، کون کتنے پانی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ طویل مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور ترجمان کے مطابق سابق گورنر، سابق وزیر اعلیٰ، دو سابق اپوزیشن لیڈرز اور 5 صوبائی وزراء کی شمولیت کے مضبوط ترین سیاسی پارٹی بن چکی ہے جس کی وجہ سے سید مہدی شاہ بوکھلا ہٹ کا شکار ہو کر من گھڑت بیانات دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: استحکام پاکستان پارٹی مہدی شاہ
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔