مہدی شاہ کے دور میں نوکریاں برائے فروخت رہیں، ترجمان استحکام پاکستان پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
ترجمان کے مطابق سابق گورنر، سابق وزیر اعلیٰ، دو سابق اپوزیشن لیڈرز اور 5 صوبائی وزراء کی شمولیت کے مضبوط ترین سیاسی پارٹی بن چکی ہے جس کی وجہ سے سید مہدی شاہ بوکھلا ہٹ کا شکار ہو کر من گھڑت بیانات دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ترجمان استحکام پاکستان پارٹی گلگت بلتستان نے گورنر گلگت بلتستان کے حالیہ بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سید مہدی شاہ کے دور میں سرکاری نوکریاں برائے فروخت دستیاب رہی ہیں اور لین دین کا خاصا تجربہ رکھتے ہیں، اس لئے استحکام پاکستان پارٹی پر بھی لین دین کے الزامات لگا رہے ہیں جو کہ بے بنیاد ہیں۔ترجمان کے مطابق استحکام پاکستان پارٹی کی حیثیت اور مقصد کا اندازہ اگلے عام انتخابات میں ہو جائے گا، کون کتنے پانی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ طویل مشاورت کے بعد کیا گیا ہے اور ترجمان کے مطابق سابق گورنر، سابق وزیر اعلیٰ، دو سابق اپوزیشن لیڈرز اور 5 صوبائی وزراء کی شمولیت کے مضبوط ترین سیاسی پارٹی بن چکی ہے جس کی وجہ سے سید مہدی شاہ بوکھلا ہٹ کا شکار ہو کر من گھڑت بیانات دے رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: استحکام پاکستان پارٹی مہدی شاہ
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔