وسیم اکرم اورروہت شرماکامصافحہ،گلے بھی ملے
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کولمبو:اتوار کو ٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان اور انڈیا کے میچ میں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ہاتھ نہیں ملائے تاہم ا سٹیڈیم میں اس سے کچھ مختلف مناظر دیکھنے کو ملے۔
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں پاکستان کے سابق کرکٹر وسیم اکرم اور سابق انڈین کپتان روہت شرما نے نہ صرف مصافحہ کیا بلکہ گلے بھی ملے۔
https://jasarat.com/wp-content/uploads/2026/02/Nibraz_Ramzan_-_Legends_Hugs_Kids_don_t_Shake_Hands._INDvPAK_T20WorldCup_REU7cJ.mp4
میچ کے دوران سامنے آنے والی یہ وائرل ویڈیو بظاہر سری لنکا کے پریما داسا سٹیڈیم کی ہے جہاں انڈیا اور پاکستان مدمقابل تھے۔
وسیم اکرم اور روہت شرما نے ایک ایسے وقت میں ملاقات کی ہے جب انڈیا اور پاکستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کھیل کے میدانوں میں بھی غالب نظر آرہی ہے۔
گزشتہ برس مئی میں دونوں ممالک کے درمیان محدود جنگ کے نتیجے میں کرکٹ کے میدانوں میں ہاتھ نہ ملانے کا سلسلہ اتوار کو پریما داسا کرکٹ سٹیڈیم میں بھی نظر آیا جہاں کھلاڑیوں نے آپس میں مصافحہ نہیں کیا۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے روہت شرما اور وسیم اکرم کی ملاقات پر دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔
ایکس صارف نبراز رمضان نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ لیجنڈز گلے ملتے ہیں جبکہ بچے ہاتھ نہیں ملاتے۔
ستیش اچاریہ نے لکھا کہ ہم پاکستان کے ساتھ کھیلیں گے البتہ ان سے ہاتھ نہیں ملائیں گے، کیا ہی بےوقوف آئیڈیا ہے، مجھے نہیں معلوم یہ جینیس مشورہ کس نے دیا۔
روشن رائے نے لکھا کہ سوریا کمار یادیو نے ٹاس کے موقع پر سلمان علی آغا سے مصافحہ نہیں کیا۔ میچ کے اختتام پر انڈین کھلاڑیوں نے پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ نہیں ملایا، لیکن روہت شرما کو وسیم اکرم کو گلے لگاتے ہوئے دیکھا گیا۔ مجھے صرف یہ امید ہے کہ اس بات پر روہت کو گالیاں نہیں دی جائیں گی اور نہ ہی شرمندہ کیا جائے گا۔
احمد نے لکھا کہ اگر محمد سراج اسی طرح سے کسی پاکستانی کھلاڑی کے ساتھ گلے ملتے تو انہیں پاکستان کا ہمدرد نہ قرار دیا جاتا
ایک اور صارف نے لکھا کہ پاکستان کے خلاف جیت کے بعد ہمیں خوشی کیوں محسوس نہیں ہو رہی؟ اس لیے کہ ہم میچ تو جیت گئے، لیکن ٹیم سے ہاتھ نہ ملا کر اپنی عزت اور کھیل کے جذبے کو کھو دیا۔ ہم آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں؟ جب روہت شرما اور وسیم اکرم نے ہاتھ ملایا، تو پھر کھلاڑیوں نے کیوں نہیں؟‘
گبر نامی اکاو ¿نٹ نے لکھا کہ روہت شرما نے کرکٹ کے میدان میں ہونے والے سستے سیاسی ہتھکنڈوں سے خود کو بالاتر ثابت کیا ہے۔
یاد رہے کہ ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں یکطرفہ مقابلے کے بعد انڈیا نے پاکستان کو 61 رنز سے شکست دے دی تھی۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کھلاڑیوں نے پاکستان کے نے لکھا کہ ہاتھ نہیں وسیم اکرم روہت شرما ہاتھ نہ
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔