عماد وسیم اور نائلہ راجہ کی شادی کے بعد ثانیہ اشفاق کا نیا دعویٰ سامنے آگیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, February 2026 GMT
قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم اور سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ کی شادی کے بعد عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق کا نیا دعویٰ سامنے آگیا۔
عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ دسمبر 2023 میں عماد نے لاہور میں میرے بچے کا اسقاط حمل کروا دیا تھا۔ ثانیہ نے کہا کہ یہ قاتل ہے اس نے مجھے دھوکا دیا اور میرے پاس اس کا ویڈیو ثبوت ہے۔
ثانیہ اشفاق نے کہا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے ایک قاتل اور دھوکے باز کو موقع دیا ہے اسلام آباد یونائیٹڈ کا بائیکاٹ کیا جائے کسی بھی قاتل اور دھوکے باز کو فرار نہیں ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیںعماد وسیم اور نائلہ راجہ کی شادی نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی
عماد وسیم نے نائلہ راجہ سے شادی کی تصدیق کردی
واضح رہے کہ پی ایس ایل کے 11ویں ایڈیشن میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے عماد وسیم کو 2 کروڑ 20 لاکھ روپے میں خرید رکھا ہے اوراب عماد وسیم کی جانب سے شادی کی تصدیق کے بعد ان کی سابق اہلیہ نے اسلام آباد یونائیٹڈ کا بائیکاٹ کرنے کے لیے بائیکاٹ اسلام آباد یونائیٹڈ کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا ہے۔
View this post on Instagramیاد رہے کہ ثانیہ اشفاق نے ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ عماد وسیم اور نائلہ راجہ نے دوسری شادی کرلی ہے اور بعد میں عماد وسیم نے بھی دوسری شادی کے متعلق سوشل میڈیا پر تفصیلی پیغام شیئر کرتے ہوئے تصدیق کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام ا باد یونائیٹڈ عماد وسیم اور ثانیہ اشفاق سوشل میڈیا نائلہ راجہ
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔