قومی کرکٹ ٹیم کے سابق آل راؤنڈر عماد وسیم اور سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ کی شادی نے سوشل میڈیا پر نئی بحث چھیڑ دی۔

عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک تقریب کی ویڈیو شیئر کی جس میں عماد وسیم اور نائلہ راجہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔

عماد وسیم کی سابق اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دعویٰ کیا کہ دونوں نے دوسری شادی کرلی ہے، اس کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل دیکھنے کو آیا۔

مزید پڑھیں

عماد وسیم نے نائلہ راجہ سے شادی کی تصدیق کردی

عماد وسیم کی سوشل میڈیا انفلوئنسر نائلہ راجہ سے دوسری شادی، سابق اہلیہ نے ویڈیو شیئر کردی

        View this post on Instagram                      

ثانیہ اشفاق کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو کے کمنٹ سیکشن میں ایک صارف نے لکھا کہ کہنے کو الفاظ نہیں ثانیہ اللہ تمہارے ساتھ ہے جبکہ دوسرے صارف نے کہا کہ اللہ آپ کو اور آپ کے بچوں کو خوشیاں اور سکون سے نوازے۔

کسی نے کہا کہ ہمیں گھر تباہ کرنے والوں اور دھوکے بازوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ ایک صارف نے کہا کہ اس طرح کے مرد کو آوارہ لڑکی کا انتخاب کرتے ہوئے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی اور یہی اس کا معیار ہے۔

ایک صارف نے کمنٹ میں لکھا کہ بیوی کی جبلت کبھی غلط نہیں ہوتی! کبھی نہیں! کسی نے ثانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ثانیہ وہ اسی کا مستحق تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نائلہ راجہ سوشل میڈیا کہا کہ

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی