وزیراعظم نے آسٹریا کی کاروباری برادری اور کمپنیوں کو پاکستان میں اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دینے کی دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان باہمی فائدے پر مبنی شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں، خصوصاً ترجیحی شعبوں میں مشترکہ منصوبوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

یہ بات انہوں نے آسٹریا کے وفاقی چانسلر Christian Stocker کے ہمراہ Vienna میں منعقدہ معروف آسٹرین اور پاکستانی کمپنیوں کے سی ای اوز فورم کی مشترکہ صدارت کرتے ہوئے کہی۔

سی ای اوز فورم میں قابلِ تجدید توانائی، توانائی کی بچت، صنعتی پیداوار اور تعمیرات، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، سرجیکل آلات، لیدر اور اسپورٹس مصنوعات، صحت، سیاحت و مہمان نوازی اور خوراک و زرعی صنعتوں سے وابستہ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

دونوں رہنماؤں نے اپنے خطاب میں دوطرفہ تجارت میں اضافے، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سمیت دیگر ترجیحی شعبوں میں تعاون کے بے پناہ امکانات کو اجاگر کیا۔

وزیراعظم نے آسٹرین کمپنیوں کو پاکستان کا دورہ کرنے اور رواں سال اپریل میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے یورپی یونین۔پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی بھی دعوت دی۔

بعد ازاں وزیراعظم نے آسٹرین چیمبر آف کامرس Austrian Federal Economic Chamber (WKO) کے زیر اہتمام منعقدہ پاکستان۔آسٹریا بزنس فورم سے بھی خطاب کیا، جس میں دونوں ممالک کے کاروباری رہنماؤں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم