اپوزیشن اتحاد کا مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کا دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260217-01-16
اسلام آباد / صوابی (مانیٹرنگ ڈیسک) اپوزیشن اتحاد (تحریک تحفظ آئین پاکستان) نے مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے کے پی ہائوس کے باہر دھرنا ایک بار پھر شروع کردیا،اسد قیصر نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے جبکہ دوسری جانب صوابی انٹرچینج پر پی ٹی آئی کارکنان کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے، موٹروے بند ہونے کے باعث بدترین ٹریفک جام، مسافر رل گئے۔ تفصیلات کے مطابق اپوزیشن اتحاد (تحریک تحفظ آئین پاکستان) نے مطالبات پورے ہونے تک پارلیمنٹ ہاؤس کا دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔اپوزیشن اتحاد کے اجلاس کے بعد تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر کی پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مشاورت جاری ہے کہ اگلا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مطالبات پورے ہونے تک دھرنا جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے ذاتی معالج کو ان سے ملنے دیا جائے۔ اسد قیصر نے کہا کہ پارٹی رہنماؤں اور فیملی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کروائی جائے۔ اپوزیشن اتحاد کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ کے باہر پھر سے دھرنا شروع کر دیا گیا جس میں پارلیمنٹیرنز نے مرکزی دروازے پر نعرے بازی کی۔علاوہ ازیں پاکستان تحریک انصاف نے کے پی ہائوس اسلام آباد کے باہر دھرنا ایک بار پھر شروع کردیا۔ پی ٹی آئی اراکین ایک بار پھر سے روڈ پر بیٹھ گئے، اراکین کی جانب سے نعرے بازی کی گئی، 90 کے قریب پارلیمنٹیرنز اس وقت کے پی ہائوس میں موجود ہیں۔ ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے ہدایت دی ہے کہ جب تک محمود خان اچکزائی دھرنا ختم کرنے کا اعلان نہیں کریں گے دھرنا جاری رہے گا۔قبل ازیں پی ٹی آئی نے آج صبح کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز کے باہر دھرنے ختم کردیے تھے۔ مزید برآں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے بانی عمران خان کی اسپتال منتقلی کے مطالبے پر صوابی انٹرچینج پر احتجاج چوتھے روز بھی جاری ہے جس کے باعث پشاور اسلام آباد موٹروے (ایم ون) ریسٹ ایریا کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لییمکمل طور پر بند ہے۔ مظاہرین نے انٹرچینج پر دھرنا دے رکھا ہے جس کے نتیجے میں موٹروے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ موٹروے بند ہونے کی وجہ سے ٹریفک کئی کلومیٹر تک پھیل چکی ہے جبکہ خواتین،بچوں اور بزرگ مسافروں کو زیادہ پریشانی کا سامنا ہے۔ موٹروے کی بندش کے باعث صوابی شہر، ٹوپی اور غازی روڈ پر بھی ٹریفک کا شدید دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متبادل راستوں پر غیر معمولی رش کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات پیش آ رہی ہیں اور سفری دورانیہ کئی گنا بڑھ گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دھرنا جاری رکھنے کا پارلیمنٹ ہاو س اپوزیشن اتحاد تحریک انصاف پی ٹی ا ئی کے باعث کے باہر
پڑھیں:
میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔
پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگیبی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی
انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔
پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدفدانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔
2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئیاس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہبی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔
مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم
کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔
چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاریدانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔
بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔
گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی
ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز