مظفرآباد میں دیار غیر میں بسنے والے کشمیریوں کے اعزاز میں شاندار کنونشن کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی اور کشمیری ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر بھیج کر قومی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ کنونشن میں وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر فیصل ممتاز راٹھور، وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام، اپوزیشن لیڈر اور حریت رہنماؤں سمیت دنیا بھر سے اوورسیز کشمیریوں نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام نے کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز پاکستانی اور کشمیری ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں جو ہر سال اربوں ڈالر بھیج کر قومی معیشت کو مضبوط بنا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور کشمیریوں کی کاوشوں سے مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہو رہا ہے۔ وزیراعظم آزادکشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے اپنے خطاب میں کہا کہ اوورسیز کشمیری مستقبل کے معمار ہیں، اوورسیز کمیشن اور اوورسیز کمشنر کے قیام سے ان کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے اور سرمایہ کاری کے ہر مرحلے پر انہیں مکمل سہولت فراہم کی جائے گی۔ کنونشن میں شریک اوورسیز کشمیریوں نے تقریب کے انعقاد پر حکومت آزاد کشمیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اوورسیز کشمیریوں کے مسائل پر توجہ دینے سے اعتماد میں اضافہ ہو گا اور بیرون ملک مقیم کشمیری یہاں سرمایہ کاری کو ترجیح دیں گے۔ آزاد کشمیر میں پہلی مرتبہ دیارِ غیر میں بسنے والے کشمیریوں کے اعزاز میں حکومتی سطح پر اتنی بڑی تقریب منعقد کی گئی جسے اپوزیشن جماعتوں نے بھی سراہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اوورسیز کشمیری کہا کہ اوورسیز
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔