بنگلا دیشی طلبہ کا پہلا دستہ علامہ محمد اقبال اسکالرشپ کے تحت پاکستان پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بنگلا دیش نالج کوریڈور کے تحت علامہ محمد اقبال اسکالرشپس کیلئے منتخب کیے گئے بنگلا دیشی طلبہ کا پہلا دستہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔ 45 طلبہ پر مشتمل یہ بیچ پاکستان کی مختلف معروف جامعات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرے گا۔
طلبہ کا جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہنچنے پر ہائر ایجوکیشن کمیشن اور متعلقہ جامعات کے نمائندوں نے پرتپاک استقبال کیا۔ حکام کے مطابق اسکالرشپ پروگرام کے اگلے مرحلے کیلئے نئے طلبہ کے انتخاب کا عمل بھی جلد شروع کیا جائے گا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بنگلا دیشی طلبہ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ان کی تعلیمی کامیابی اور پاکستان میں یادگار قیام کیلئے دعا کی۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کو معیاری تعلیم، سازگار تعلیمی ماحول اور مکمل سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں بھرپور کامیابی حاصل کر سکیں۔
پاکستان بنگلا دیش نالج کوریڈور کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی تعاون کو فروغ دینا اور عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانا ہے، تاکہ تعلیم کے ذریعے باہمی تعلقات کو نئی جہت دی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔