قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 مقدمات میں عمران خان کو گرفتار کرنے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے بانی پی ٹی آئی کیخلاف سابق وزیر محسن شاہنواز رانجھا کو قتل کی کوشش سمیت دیگر 5 کیسز کی سماعت کی۔
عدالت نے قتل کی کوشش سمیت دیگر پانچ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری سے روک دیا، عدالت نے 18 فروری تک متعلقہ مقدمات میں بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی گرفتاری سے روک دیا۔
عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کردی، بانی پی ٹی آئی کو بذریعہ ویڈیو لنک عدالت میں پیش نہ کیا جاسکا۔
عدالت نے اگلی سماعت میں بانی پی ٹی آئی کو عدالت میں یا بذریعہ ویڈیو لنک پیش کرنے کی ہدایت کردی، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے کیس پر سماعت کی۔
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر اور بانی پی ٹی آئی کی عدم دستیابی کے باعث دلائل نہ ہوسکے، عدالت نے ضمانت کی درخواستوں پر سماعت 18 فروری تک ملتوی کردی۔
بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی جانب سے معاون وکلاء خالد یوسف چوہدری اور شمسہ کیانی ایڈووکیٹ پیش ہوئیں۔
بانی پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی، اقدام قتل اور جعلی رسیدوں سمیت دیگر مقدمات درج ہیں جبکہ بشری بی بی کے خلاف مبینہ جعلی رسیدیں جمع کروانے پر مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی آئی سمیت دیگر عدالت نے
پڑھیں:
کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
کراچی:ملیر 15 کے علاقے میں سندھ رینجرز اور اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) پولیس کے مشترکہ آپریشن کے دوران مبینہ مقابلے میں تین ملزمان ہلاک جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔
چھیپا حکام کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مبینہ بھتہ خوروں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ تقریباً آدھے گھنٹے تک جاری رہا جس کے بعد تین ملزمان مارے گئے جبکہ ایک زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔
فائرنگ ختم ہونے کے بعد ہلاک اور زخمی ملزمان کو ریسکیو کی ایمبولینسوں کے ذریعے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے ملزمان کی شناخت شاہ رخ، راحب اور علی حمزہ کے ناموں سے ہوئی ہے جبکہ زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت محمد وسیم کے نام سے کی گئی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق ہلاک اور گرفتار ملزمان بھتہ خوری سمیت دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی مزید تفتیش کر رہے ہیں اور ملزمان کے ممکنہ ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔