میڈیا سے اپنی ایک گفتگو میں ایرانی ترجمان خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم، جنیوا میں نیک نیتی اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ موجود ہے۔ امید ہے کہ امریکی وفد کیجانب سے بھی اسی سطح کی سنجیدگی اور نیک نیتی کا مشاہدہ سامنے آئیگا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان "اسماعیل بقائی" اس وقت "جنیوا" میں موجود ہیں۔ وہ "عمان" کی ثالثی سے "امریکہ" کے ساتھ ہونے والے جوہری مذاکرات میں ایرانی ٹیم کا حصہ ہیں۔ دنیا بھر کی نظریں ان مذاکرات پر مرکوز ہیں۔ جس سے اسماعیل بقائی، مذاکراتی عمل کے دوران میڈیا پر اپڈیٹ کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز وزیر خارجہ "سید عباس عراقچی" اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سربراہ "رافائل گروسی" کے درمیان ہونے والی ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مذاکرات کے تکنیکی پہلوؤں پر IAEA کے ساتھ مشاورت ہونی چاہئے تاکہ وہ اس عمل میں مثبت کردار ادا کر سکیں۔ گزشتہ ملاقات اسی بات کا تسلسل تھی۔ انہوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کے بارے میں بتایا کہ ایرانی وفد میں تکنیکی شخصیات اور وہ ماہرین شامل ہیں جن کے پاس پابندیوں کے خاتمے کا میکانزم ہے۔ کیونکہ ایران سے پابندیوں کا خاتمہ، جوہری مذاکرات کا جزو لا ینفک ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم، جنیوا میں نیک نیتی اور انتہائی سنجیدگی کے ساتھ موجود ہے۔ امید ہے کہ امریکی وفد کی جانب سے بھی اسی سطح کی سنجیدگی اور نیک نیتی کا مشاہدہ سامنے آئے گا۔ ہم نتیجہ خیز اقدام کے لئے کوشاں ہیں۔ ہمارے لئے یہ وقت بہت اہم اور فیصلہ کن ہے۔ اسی لئے ہمارے سفارتی سربراہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے ہم یہاں چند دن یا چند ہفتے یہاں تک کہ طویل مدت تک بھی رہنے کے لئے تیار ہیں۔ آخر میں انہوں نے عمانی وزیر خارجہ کے ساتھ سید عباس عراقچی کی ملاقات کا ذکر کیا۔ اس بارے میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ملاقات میں ہم نے اپنے تحفظات، نقطہ نظر اور مطالبات کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ ان مذاکرات کا پہلا دور بالواسطہ طور پر اور عمان کی ثالثی میں جمعہ 6 فروری 2026ء کو مسقط میں منعقد ہوا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسماعیل بقائی نیک نیتی کے ساتھ

پڑھیں:

ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

تہران(نیوز ڈیسک) ایران اور عراق نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے چار معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیے۔

عراقی وزیراعظم کے دورہ تہران کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کیے گئے، یہ معاہدے خسروی خانقین بغداد ریلوے کی تعمیر، بغداد اورتہران کو سسٹر سٹیز بنانے، پبلک ایڈمنسٹریشن میں تعاون، تربیت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ سے متعلق کیے گئے۔

معاہدے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی موجودگی میں کیے گئے۔

صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عراق سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانا ترجیح ہے۔

مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان