حکومت کہہ رہی ہے ملاقات کے لیے آؤ، ہم آگئے تو اب ملاقات کیوں نہیں کرائی؟ بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2026 GMT
راولپنڈی:
حکومت کے کہنے پر بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل پہنچ گئے تاہم ملاقات آج بھی نہ ہوسکی، رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت کہہ رہی ملاقات کے لیے آؤ اور ہم آئے ہیں تو ملاقات کیوں نہیں کرائی؟ یہ رویہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔
اڈیالہ روڈ سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہر بندہ سمجھتا ہے بانی کی صحت کے حوالے سے کوئی مستند خبر آئے گی، ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں بانی کی آنکھ کیسی ہے، ملاقاتیں نہ کرانے کی وجہ سے میں ملک کرائسز میں ہے، ملاقات ہوجاتی تو ہمیں اصل صورتحال پتا چل جاتی مگر آپ بضد ہیں کسی کی ملاقات نہیں کرانی۔
ان کا کہنا تھا کہ فروری 2025ء سے لیڈرشپ کی ملاقات بند ہے، کچھ بھی کرلیں پاکستان کی سیاست کا میں آف دی میچ عمران خان ہے، ہمارا بنیادی مطالبہ یہ تھا بانی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ہمارا مطالبہ تھا بانی فیملی اور ذاتی معالج کو رسائی دی جائے حکومت نے کہا ضرور! آپ اڈیالہ آجائیں اور ہم آگئے، یہ بات غلط ہے کہ ملاقات کا کہا جاتا ہے اور ہم نہیں آتے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم بطور وکیل آج یہاں آئے ہیں، ہمارے مقدمات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، کیسے ممکن ہے آپ ایک شخص کے خلاف اتنے مقدمات چلائیں لیکن وکلاء کو ملنے نہ دیں یہ ہمارا بنیادی حق ہے کہ ہم بانی سے ہدایات لیں مگر آج ہمیں بطور وکیل نہیں ملنے دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی کا حق ہے وہ اپنی فیملی سے ملیں جو بات ان کے ذہن میں ہے وہ بتائیں، فیملی کا بھی حق ہے جو بات ہے وہ باہر آکر ہمیں بتائے، یہ کیسے ممکن ہے آپ کسی کو بات کرنے سے روکیں، یہ کہنا بانی کی فیملی سیاسی بات نہیں کرے گی سراسر غیر آئینی ہے، ہماری کوئی بیک ڈور بات نہیں چل رہی جو بات ہوگی فرنٹ ڈور سے ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ طبی معائنے میں گوہر صاحب نے شریک ہونے سے ٹھیک انکار کیا، فیملی کا حق تھا وہ طبی معائنے کے وقت موجود ہو ہم میں سے کوئی بھی جاتا قوم کو تسلی نہیں ہونی تھی، شفافیت کا تقاضا تھا فیملی ممبر یا ذاتی معالج وہاں موجود ہو، ایک وکیل کا یا سیاسی رہنما کا وہاں ہونا بے معنی تھاہم خانہ پوری کے لیے نہیں جانا چاہتے تھے ہم نے طبی معائنے میں شریک ہوکر کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہم شریک ہوتے تو اسے استعمال کیا جانا تھا۔
اڈیالہ جانے سے قبل میڈیا ٹاک
بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے صحت کے معاملات یہاں تک پہنچے، ملاقاتیں ہوتی تو صورتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی۔
اڈیالہ روانہ ہونے سے قبل بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ملاقاتوں کا دن ہے، بشریٰ بی بی اور وکلاء کی ملاقاتیں ہمارا حق ہے، ملاقات ہوتی تو پتا ہوتا کہ عمران خان کا علاج کس نے کیا اور فیملی بھی مطمئن رہتی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جیل میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عمران خان کی صحت کا خیال رکھے۔
انہوں نے کہا کہ حیرت ہوتی ہے جب لوگ پوچھتے ہیں کہ آج خان سے ملاقات ہوگی یا نہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ 100 فیصد یقین ہو کہ آج ملاقات ہوگی۔
علی امین گنڈاپور کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں تو ہم سراہتے ہیں مگر اس موقع پر پارٹی کے رہنماؤں کو کہوں گا کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے لوگ غلط مطلب لیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر ان کا کہنا نے کہا کہ
پڑھیں:
سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ اگر اس مرتبہ بھی انہیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو 10 جون کو ملک بھر سے پارلیمنٹیرین اسلام آباد پہنچ کر قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے۔اڈیالہ روڈ سے روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت بانی پی ٹی آئی کی جماعت کی حکومت ہے اور صوبے کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو ووٹ دیا ہے، اس لیے عوام کی خواہش ہے کہ صوبائی بجٹ ان کی ہدایات اور ترجیحات کے مطابق مرتب کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بجٹ کے حوالے سے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کر کے ان کی منظوری حاصل کی جائے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، امن عامہ کی صورتحال اور اہم امور پر تبادلۂ خیال
سہیل آفریدی نے اعلان کیا کہ وہ کل اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کریں گے اور امید ہے کہ اس مرتبہ ملاقات کی اجازت مل جائے گی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج بھی بانی پی ٹی آئی کے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ انہیں ناحق قید رکھا گیا ہے۔ ان کے بقول پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث بانی پی ٹی آئی کی آنکھ میں مسئلہ پیدا ہوا جبکہ عوام میں اس بات پر تشویش پائی جاتی ہے کہ ملاقاتوں پر پابندی کیوں عائد کی جا رہی۔
مایوسی کا دور ختم ، ہم ایک ماہ میں پوسٹ حج آپریشن کامیابی سے مکمل کریں گے: کنٹری منیجر ظہیرالدین آغا
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے بانی پی ٹی آئی کو مینڈیٹ دیا ہے اور صرف وہی وزیراعلیٰ کو تبدیل کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ان کی ملاقات بیرسٹر گوہر کی درخواست پر ہوئی تھی، علاقائی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا برادر اسلامی ملک ہے اور کسی کی خوشنودی کے لیے دونوں ممالک کے تعلقات خراب نہیں ہونے چاہئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی ہمیشہ یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور پاکستان کو خطے میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے، خیبرپختونخوا کے آئندہ بجٹ میں سماجی بہبود، تعلیم اور صحت کے شعبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔کرپشن کے الزامات کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ان کے دفتر کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور اگر کسی کے پاس کرپشن کے ثبوت ہیں تو وہ سامنے لائے۔
بری طرح تھکا ہوا تھا، خستہ حال بے خوابی سے بوجھل سوجی آنکھوں میں نیند کی شدت کا درد، آتے ہی چارپائی پر ایسا گرا کہ شام تک ہوش ہی نہیں آیا
مزید :