راولپنڈی:

حکومت کے کہنے پر بیرسٹر گوہر اور سلمان اکرم راجہ عمران خان سے ملنے اڈیالہ جیل پہنچ گئے تاہم ملاقات آج بھی نہ ہوسکی، رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت کہہ رہی ملاقات کے لیے آؤ اور ہم آئے ہیں تو ملاقات کیوں نہیں کرائی؟ یہ رویہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

اڈیالہ روڈ سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ ہر بندہ سمجھتا ہے بانی کی صحت کے حوالے سے کوئی مستند خبر آئے گی، ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں بانی کی آنکھ کیسی ہے، ملاقاتیں نہ کرانے کی وجہ سے میں ملک کرائسز میں ہے،  ملاقات ہوجاتی تو ہمیں اصل صورتحال پتا چل جاتی مگر آپ بضد ہیں کسی کی ملاقات نہیں کرانی۔

ان کا کہنا تھا کہ فروری 2025ء سے لیڈرشپ کی ملاقات بند ہے، کچھ بھی کرلیں پاکستان کی سیاست کا میں آف دی میچ عمران خان ہے، ہمارا بنیادی مطالبہ یہ تھا بانی کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، ہمارا مطالبہ تھا بانی فیملی اور ذاتی معالج کو رسائی دی جائے حکومت نے کہا ضرور! آپ اڈیالہ آجائیں اور ہم آگئے، یہ بات غلط ہے کہ ملاقات کا کہا جاتا ہے اور ہم نہیں آتے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم بطور وکیل آج یہاں آئے ہیں، ہمارے مقدمات سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہیں، کیسے ممکن ہے آپ ایک شخص کے خلاف اتنے مقدمات چلائیں لیکن وکلاء کو ملنے نہ دیں یہ ہمارا بنیادی حق ہے کہ ہم بانی سے ہدایات لیں مگر آج ہمیں بطور وکیل نہیں ملنے دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی کا حق ہے وہ اپنی فیملی سے ملیں جو بات ان کے ذہن میں ہے وہ بتائیں، فیملی کا بھی حق ہے جو بات ہے وہ باہر آکر ہمیں بتائے، یہ کیسے ممکن ہے آپ کسی کو بات کرنے سے روکیں، یہ کہنا بانی کی فیملی سیاسی بات نہیں کرے گی سراسر غیر آئینی ہے، ہماری کوئی بیک ڈور بات نہیں چل رہی جو بات ہوگی فرنٹ ڈور سے ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ طبی معائنے میں گوہر صاحب نے شریک ہونے سے ٹھیک انکار کیا، فیملی کا حق تھا وہ طبی معائنے کے وقت موجود ہو ہم میں سے کوئی بھی جاتا قوم کو تسلی نہیں ہونی تھی، شفافیت کا تقاضا تھا فیملی ممبر یا ذاتی معالج وہاں موجود ہو، ایک وکیل کا یا سیاسی رہنما کا وہاں ہونا بے معنی تھاہم خانہ پوری کے لیے نہیں جانا چاہتے تھے ہم نے طبی معائنے میں شریک ہوکر کوئی موقع ضائع نہیں کیا ہم شریک ہوتے تو اسے استعمال کیا جانا تھا۔

اڈیالہ جانے سے قبل میڈیا ٹاک

بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے صحت کے معاملات یہاں تک پہنچے، ملاقاتیں ہوتی تو صورتحال اتنی سنجیدہ نہ ہوتی۔

اڈیالہ روانہ ہونے سے قبل بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ملاقاتوں کا دن ہے، بشریٰ بی بی اور وکلاء کی ملاقاتیں ہمارا حق ہے، ملاقات ہوتی تو پتا ہوتا کہ عمران خان کا علاج کس نے کیا اور فیملی بھی مطمئن رہتی۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جیل میں ریاست کی ذمہ داری ہے کہ عمران خان کی صحت کا خیال رکھے۔

انہوں نے کہا کہ حیرت ہوتی ہے جب لوگ پوچھتے ہیں کہ آج خان سے ملاقات ہوگی یا نہیں؟ ہونا تو یہ چاہیے کہ 100 فیصد یقین ہو کہ آج ملاقات ہوگی۔

علی امین گنڈاپور کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں تو ہم سراہتے ہیں مگر اس موقع پر پارٹی کے رہنماؤں کو کہوں گا کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے لوگ غلط مطلب لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ بیرسٹر گوہر ان کا کہنا نے کہا کہ

پڑھیں:

عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔

ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف