رمضان المبارک میں امن و امان قائم رکھا جائے، زین العابدین میمن
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)رمضان المبارک کے دوران عوام کو ہر ممکن سہولت کی فراہمی اور امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ڈپٹی کمشنر حیدرآباد زین العابدین میمن کی زیر صدارت ڈی سی آفس میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں اسسٹنٹ کمشنرز، مختارکاروں کے علاوہ حیسکو، سوئی گیس، واسا، لوکل گورنمنٹ، پولیس اور دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنرز اور مختارکاروں کو ہدایت کی کہ وہ قیمتوں کے کنٹرول کو انتہائی سنجیدگی سے لیں اور روزانہ دو مرتبہ منڈیوں کا دورہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ مہنگائی اور منافع خوری کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جائے گا بالخصوص پھلوں کی قیمتوں اور تربوز کے نرخ مقررہ فہرست کے مطابق برقرار رکھے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے واسا حکام کو ہدایت کی کہ مساجد میں پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے، جبکہ حیسکو کو سحری اور افطاری کے اوقات میں بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کی ہدایت دی گئی۔ اسی طرح سوئی گیس حکام کو بھی گیس کی مسلسل فراہمی یقینی بنانے کا کہا گیا۔انہوں نے ٹاؤن انتظامیہ کو ہدایت کی کہ آوارہ کتوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ تراویح کے بعد گھروں کو لوٹنے والے شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ اس کے علاوہ پولیس کو ہدایت دی گئی کہ بالخصوص آخری عشرہ کے دوران فول پروف سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران عوامی مسائل کے حل میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام محکمے باہمی تعاون سے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈپٹی کمشنر کو ہدایت
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔