موٹروے پولیس کی بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
لاہور:
موٹروے ایم-2 ساؤتھ پر سیال موڑ کے قریب اسلام آباد سے لاہور جانے والی ایک بس کے پچھلے حصے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تاہم موٹروے پولیس کی فوری کارروائی سے بڑا سانحہ ٹل گیا۔
ترجمان سنٹرل ریجن کے مطابق واقعہ موٹروے ایم 2 ساؤتھ پر پیش آیا جہاں شارٹ سرکٹ کے باعث بس کے عقب میں آگ لگی۔
خوش قسمتی سے اس وقت بس میں کوئی مسافر موجود نہیں تھا اور صرف عملہ سوار تھا۔
موٹروے پولیس نے اطلاع ملتے ہی موقع پر پہنچ کر بس میں موجود عملے کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
موٹر وے پر ٹرک کے پچھلے ٹائروں میں اچانک آگ لگ گئی، بروقت کارروائی سے بڑا حادثہ ٹل گیا
موٹر وے پر خوفناک تصادم میں میت لے جانے والی ایمبولینس کا ڈرائیور جاں بحق
افسران نے فوری طور پر سڑک پر کوننگ اور وارننگ بورڈز لگا کر ٹریفک کو محفوظ بنایا تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔
ترجمان کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لیے ایف ڈبلیو او کے واٹر باؤزرز کی مدد حاصل کی گئی جس کے بعد شعلوں کو مکمل طور پر بجھا دیا گیا۔
بس مالک نے موٹروے پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ فوری کارروائی کے باعث قیمتی جانیں محفوظ رہیں اور نقصان محدود رہا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل موٹروے پولیس
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔