خیبرپختونخوا میں سڑکوں کی بندش فوری ختم کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260218-08-16
پشاور (آن لائن) پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں سڑکوں کی بندش فوری طور پر ختم کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے صوبائی حکام کو امن و امان کی صورتحال بحال رکھنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے یہ احکامات پی ٹی آئی کی جانب سے سڑکوں کی بندش کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیے۔کیس کی سماعت جسٹس اعجاز انور اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بینچ نے کی۔ درخواست گزاروں میں ایم پی اے صبیحہ شاہد، طارق افغان اور یوسف علی شامل تھے۔ درخواست گزاروں کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پی ٹی آئی کے احتجاج کے باعث اہم شاہراہیں بند رہیں جس سے عوام، بالخصوص مریضوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔عدالت میں سڑکوں کی بندش کے باعث مریضوں کو پیش آنے والی مشکلات کی ویڈیو بھی پیش کی گئی، جس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے آئی جی خیبرپختونخوا اور چیف سیکرٹری کو طلب کر کے ان کا مؤقف سنا اور فوری طور پر امن و امان بحال کرنے اور ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا حکم دیا۔عدالت نے واضح ہدایت کی کہ خیبرپختونخوا میں کسی بھی سڑک کی بندش کو یقینی طور پر روکا جائے اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے۔ مزید برآں عدالت نے حکام سے 18 فروری تک عملدرآمد رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سڑکوں کی بندش عدالت نے
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔