چیٹ جی پی ٹی میں ڈیٹا تحفظ کے لیے نئے فیچرز متعارف
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت کے معروف پلیٹ فارم چیٹ جی پی ٹی میں صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دو نئے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد حساس معلومات کو ممکنہ سائبر خطرات سے بچانا اور بیرونی روابط کو محدود کرنا ہے۔
کمپنی نے ’لاک ڈاؤن موڈ‘ کے نام سے ایک آپشنل فیچر متعارف کرایا ہے، جو فعال کرنے پر چیٹ بوٹ کی بیرونی سسٹمز سے وابستگی کم کر دیتا ہے۔ اس موڈ کے ذریعے مخصوص ٹولز اور کنکشنز تک رسائی محدود یا مکمل طور پر بند کی جا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے اکاؤنٹس کے لیے جہاں حساس معلومات موجود ہوں یا ہیکنگ کا خدشہ زیادہ ہو۔
دوسرا فیچر ’ایلیویٹڈ رسک لیبلز‘ ہے، جس کے تحت اُن ٹولز یا خصوصیات کے سامنے انتباہی نشان ظاہر ہوگا جو بیرونی مواد یا ویب کنکشن سے زیادہ تعامل رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد صارفین کو ممکنہ خطرات سے پیشگی آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ احتیاطی فیصلہ کر سکیں۔
کمپنی کے مطابق یہ اقدامات خاص طور پر ’پروموٹ انجیکشن‘ جیسے حملوں کے سدباب کے لیے کیے گئے ہیں۔ ایسے حملوں میں ہیکرز کسی ویب صفحے یا فائل میں مشکوک ہدایات شامل کر کے اے آئی سسٹم سے خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
چونکہ جدید چیٹ بوٹس میں ڈاکومنٹ ریڈنگ اور ویب براؤزنگ جیسی سہولیات موجود ہوتی ہیں، اس لیے یہ خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ان نئے فیچرز سے توقع کی جا رہی ہے کہ صارفین کو اپنے ڈیٹا اور پرائیویسی پر زیادہ کنٹرول حاصل ہوگا اور آن لائن سیکورٹی کا معیار مزید بہتر ہو سکے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔