8 اسلامی ممالک کی اسرائیل کے مغربی کنارے پر قبضے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے، دفترخارجہ
عالمی برادری ان خلاف ورزیوں کو روکنے کیلئے فوری اقدامات کرے،مشترکہ بیان
پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مقبوضہ مغربی کنارے کی زمینوں کو اسرائیل کی جانب سے نام نہاد”ریاستی زمین”قرار دینے اور غیرقانونی آبادکاری کی منظوری کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ 1967 کے بعد پہلی بار مقبوضہ مغربی کنارہ کے وسیع علاقوں میں اراضی کی رجسٹریشن اور ملکیت کے تصفیے کے اقدامات ایک سنگین اور غیرقانونی پیش رفت ہیں، جن کا مقصد فلسطینی زمینوں پر قبضہ مضبوط کرنا اور اسرائیلی خودمختاری مسلط کرنا ہے۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں خصوصاً قرارداد 2334 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ پالیسی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی قانونی، تاریخی اور آبادیاتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش ہے، جو دو ریاستی حل کو نقصان پہنچا کر آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو کمزور کرتی ہے۔ وزرائے خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کو یقینی بنائے، جس کے تحت 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔