ایپسٹین فائلز میں انسانیت کے خلاف جرائم کے شواہد سامنے آگئے، اقوام متحدہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ کے ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ایپسٹین فائلز میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جو انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں۔
مرحوم جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق فائلیں محض عام عدالتی ریکارڈ یا ذاتی ڈائریاں نہیں بلکہ ان میں موجود لاکھوں دستاویزات ایک ایسے عالمی مجرمانہ نیٹ ورک کی نشاندہی کرتی ہیں جو منظم انداز میں سنگین جرائم میں ملوث رہا۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا مری میں رین واٹر ہارویسٹنگ منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل پر اظہار اطمینان
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے مقرر کردہ آزاد ماہرین کے پینل کے مطابق امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کی گئی دستاویزات میں بیان کردہ جرائم برتری کے نظریات، نسل پرستی، بدعنوانی اور شدید عورت دشمن سوچ کے پس منظر میں کیے گئے۔
Independent human rights experts:
"Any suggestion that it is time to move on from the #EpsteinFiles is unacceptable.
— United Nations Geneva (@UNGeneva) February 16, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان جرائم سے خواتین اور بچیوں کو محض ایک شے سمجھنے اور انہیں غیر انسانی سطح تک گرانے کی عکاسی ہوتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان مظالم کا دائرہ، نوعیت، منظم انداز اور سرحدوں سے ماورا پھیلاؤ اس حد تک سنگین ہے کہ ان میں سے متعدد کو قانونی طور پر انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’ایپسٹین فائلز ’خالص جہنم‘ ہیں، مغربی ادارے بچوں کی اسمگلنگ چھپاتے رہے، ماسکو
ماہرین نے مطالبہ کیا کہ ان الزامات کی آزاد، مکمل اور غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں اور یہ بھی جانچا جائے کہ اتنے طویل عرصے تک ایسے جرائم کا ہونا کیسے ممکن رہا۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے ان خدشات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
Peace With No Notion: Epstein files: ‘No one is too wealthy or too powerful to be above the law’; rights experts demand accountability https://t.co/u33D8hgWDd
— Foundation For A Humanitarian Based Economy (@fhbeps) February 17, 2026
دستاویزات میں اب تک ایک ہزار 200 سے زائد متاثرین کی نشاندہی کی جاچکی ہے۔ ماہرین نے حساس معلومات کے افشا ہونے، ناقص ترمیم اور ضابطوں پر عملدرآمد میں ناکامی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایپسٹین فائلز میں مودی کا نام سامنے آنے پر کانگریس کی تنقید، حکومت کی سخت تردید
ماہرین کا کہنا ہے کہ مکمل معلومات سامنے نہ لانے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع نہ کرنے کی وجہ سے بہت سے متاثرین خود کو دوبارہ ذہنی اذیت میں مبتلا محسوس کر رہے ہیں۔
یہ دستاویزات سیاست، مالیات، تعلیمی اداروں اور کاروباری حلقوں کی کئی نمایاں شخصیات سے ایپسٹین کے روابط بھی ظاہر کرتی ہیں۔ جیفری ایپسٹین کو 2008 میں کم عمر لڑکی سے متعلق جرم کا اعتراف کرنے کے بعد سزا ہوئی تھی، جبکہ بعد ازاں اسے بچوں کی اسمگلنگ کے الزامات پر دوبارہ گرفتار کیا گیا۔
ایپسٹین 2019 میں جیل میں مردہ پائے، ان کی موت کو خودکشی قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک اور جیفری ایپسٹین کے درمیان دوستانہ رابطوں کے شواہد منظرعام پر آگئے
ماہرین کے مطابق ہر نئے دن سامنے آنے والی فائلیں اور ان میں موجود مواد دنیا بھر میں نئے صدمے اور خوف کو جنم دے رہا ہے، جبکہ یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ فائلیں اس انداز میں کیوں منظرعام پر لائی جا رہی ہیں اور ماضی میں انہیں کیوں محفوظ یا ختم نہیں کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اقوام متحدہ جرائم جیفری ایپسٹین فائلز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ جیفری ایپسٹین فائلز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔