کراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 2 زخمیوں سمیت 4 ڈاکو گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کراچی:
شہر قائد میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں مبینہ پولیس مقابلے ہوئے جن میں دو زخمیوں سمیت 4 ڈاکوؤں کو گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ایک ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
پولیس کے مطابق جیل چورنگی کے قریب فیروز آباد پولیس اور شاہین فورس کے جوانوں کا ملزمان سے آمنا سامنا ہوا۔
فائرنگ کے تبادلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار ملزم کی شناخت شاہ رخ کے نام سے ہوئی جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ اس کے دو ساتھی ولید اور علی اکبر کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کا ایک ساتھی ساجد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جس کی تلاش جاری ہے۔
مزید پڑھیںکراچی کے مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، دو زخمی ملزمان گرفتار
گرفتار ملزمان کے قبضے سے دو پستولیں، موبائل فونز، نقدی اور بغیر نمبر پلیٹ 125 موٹر سائیکل برآمد کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان اسٹریٹ کرائم کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہیں اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔
دوسری جانب کورنگی نمبر 4 جلال گراؤنڈ کے قریب زمان ٹاؤن پولیس کا بھی مبینہ مقابلہ ہوا جس میں ایک ڈاکو زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق زخمی ملزم کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی شناخت 19 سالہ عرفان کے نام سے کی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔