وزیرِاعظم شہباز شریف دورۂ امریکا پر واشنگٹن پہنچ گئے، بورڈ آف پیس اجلاس میں شرکت کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
پرائم منسٹر آفس (میڈیا ونگ) کے مطابق وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس میں شرکت کی دعوت پر اپنے دورۂ امریکا کے سلسلے میں واشنگٹن پہنچ گئے ہیں۔
مزید پڑھیں: صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی اہل پاکستان کو رمضان المبارک کے آغاز پر مبارکباد
نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ اور معاونِ خصوصی طارق فاطمی پاکستانی وفد میں وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔
Prime Minister @CMShehbaz has arrived in Washington, D.
— Media Talk (@mediatalk922) February 19, 2026
وزیرِ اعظم آج واشنگٹن میں منعقدہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ دورے کے دوران اعلیٰ امریکی حکام کے ساتھ وزیرِ اعظم کی ملاقاتیں بھی متوقع ہیں۔
مزید پڑھیں: صدر آصف زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی اہل پاکستان کو رمضان المبارک کے آغاز پر مبارکباد
وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکا عالمی امن کے قیام کے لیے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی رکنیت، عالمی امن کے فروغ میں پاکستان کے مؤثر کردار اور ملک کی بڑھتی ہوئی سفارتی کامیابیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ آف پیس واشنگٹن وزیرِ اعظم کا دورۂ امریکا وزیر اعظم محمد شہباز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بورڈ ا ف پیس واشنگٹن وزیر اعظم کا دورہ امریکا وزیر اعظم محمد شہباز شریف بورڈ آف پیس شہباز شریف
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔