کراچی: سولجر بازار میں رہائشی عمارت میں گیس سلنڈر کا دھماکا، 16افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
کراچی میں گیس سلنڈر کے باعث عمارت میں ہونے والے دھماکے سے ہلاکتوں کی تعداد 16 ہوگئی۔پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے سولجر بازار میں صبح 4 بجے کے قریب عمارت میں گیس سلنڈر کا دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں عمارت کا کچھ حصہ گرگیا، حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے علاقےکوگھیرے میں لےکر سکیورٹی سخت کردی اور ریسکیو اداروں نے سرچ آپریشن شروع کردیا۔ریسکیو حکام کا کہنا ہےکہ عمارت تین منزلہ ہے اور ہرفلور پر ایک کمرہ قائم ہے، تنگ گلیوں کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ریسکیو حکام کے مطابق جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور اب تک 16 لا شیں نکالی جاچکی ہیں جن میں 4 بچے اور 6 خواتین بھی شامل ہیں جب کہ 12سے زائد زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ڈی جی ریسکیو 1122بریگیڈئیر واجد نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ گیس دھماکا عمارت کی پہلی منزل پر ہوا، دھماکا گیس سلنڈر یا گیس کھینچنے والی مشین سےہوا جس میں اب تک 7 لاشیں نکالی جاچکی ہیں جن میں خاتون اور بچی کی لاشیں بھی شامل ہیں۔ڈی جی نے کہا کہ مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے جس کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے، چھوٹی عمارت کے لیے ہمارے پاس خاص آلہ ہوتاہے، آلے کی مدد سے لوہے کو کاٹ کر ملبہ ہٹایا ہے۔دوسری جانب ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر فرخ لنجار نے میڈیا سےگفتگو میں بتایا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا گیس لیکج کا ہے، ریسکیو آپریشن جاری ہے اور ملبے میں ایک لاش دبے ہونے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہاکہ واقعے کی تحقیقات کی جائیں گی اور کیمیکل ایگزیمین کے بعد ہی دھماکے کی اصل نوعیت کا تعین ہوسکے گاجب کہ عمارت سے متعلق محکمہ بتائے گاکہ یہ عمارت قانونی تھی یا غیر قانونی، تعین کرکے واقعے کے ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گیس سلنڈر
پڑھیں:
کراچی: کیماڑی میں 6 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث مرکزی ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی میں پولیس نے ایک 6 سالہ بچی کے اغوا اور سفاکانہ قتل میں ملوث مرکزی ملزم کو مبینہ پولیس مقابلے کے دوران ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ترجمان کے مطابق یہ پیش رفت جیرکسن تھانے کی حدود میں پیش آئی، جہاں مبینہ ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس پارٹی نے مبارک مسجد کے قریب چھاپہ مارا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزم نے اہلکاروں پر براہِ راست فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس نے بھی جوابی فائرنگ کی۔ اس تبادلے میں ملزم گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا اور بعد میں دم توڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی مختلف علاقوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج کی تفصیلی جانچ پڑتال اور دیگر تکنیکی و جغرافیائی شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ اس سے قبل، معصوم بچی کی لاش منوہرہ کے قریب جھاڑیوں سے برآمد ہوئی تھی۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے میڈیکو لیگل کا جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی کہ بچی کو بدترین جنسی تشدد اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ اس کے پورے جسم پر تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں۔ بچی کی موت کی حتمی وجہ کا تعین فارنسک لیبارٹری کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ آنے کے بعد کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پشاور: 8 سالہ بچی مبینہ زیادتی کے بعد قتل، لاش ہمسائے کے صندوق سے برآمد
پولیس کے مطابق جیرکسن تھانے میں پہلے ہی بچی کے اغوا اور قتل کے حوالے سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 364-A اور 302 کے تحت مقدمہ (FIR No. 265/2026) درج تھا۔ اب پولیس مقابلے کا ایک الگ کیس بھی اسی تھانے میں درج کیا جا رہا ہے اور کرائم سین کو سیل کر کے تمام سائنسی و فارنسک ثبوت تحویل میں لے لیے گئے ہیں۔
اس واقعے سے چند ہی دن قبل بھی کراچی میں 6 سالہ بچے کے اغوا، زیادتی اور قتل کے الزام میں ایک 20 سالہ نوجوان کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کی لاش بوری میں بند کر کے ویران پلاٹ پر پھینکی گئی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پولیس مقابلہ زیادتی قتل کراچی کمسن بچی ملزم ہلاک