یوٹیوب کی سب سے پہلی ویڈیو اب میوزیم میں نمائش کیلئے رکھی گئی
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: دنیا کے سب سے مقبول ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب کی سب سے پہلی ویڈیو اب میوزیم کی نمائش میں محفوظ کر دی گئی ہے۔ یہ تاریخی ویڈیو جاوید کریم نے ریکارڈ کی تھی، جو یوٹیوب کے شریک بانی بھی ہیں اور سان ڈیاگو چڑیا گھر میں گھومتے ہوئے ہاتھیوں کے بارے میں مختصر طور پر بات کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ 19 سیکنڈز کی ویڈیو 23 اپریل 2005 کو اپ لوڈ کی گئی تھی اور اب تک اسے 32 کروڑ سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے جبکہ اس پر ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لائیکس دیے جا چکے ہیں۔ اس ویڈیو کی مقبولیت اور تاریخی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، لندن کے وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم (V&A) نے اسے اپنی نمائش میں شامل کر لیا ہے۔
میوزیم کے ترجمان نے بتایا کہ انہوں نے یوٹیوب کے ابتدائی ویب پیج اور اس تاریخی ویڈیو کو خریدا ہے اور گزشتہ 18 ماہ سے ویڈیو کے اصل واچ پیج کے ڈیزائن کو بحال کرنے پر کام جاری تھا۔ اس پروجیکٹ میں یوٹیوب کی ٹیم اور ایک تخلیقی ڈیزائن اسٹوڈیو نے تعاون فراہم کیا تاکہ ویڈیو کی اصل شناخت برقرار رکھی جا سکے۔
نمائش کے دوران ویڈیو کو دیکھنے کے لیے ایک منی ڈسپلے قائم کیا گیا ہے تاکہ ملاحظہ کرنے والے نہ صرف ویڈیو دیکھ سکیں بلکہ اس کے تاریخی اور ڈیجیٹل اہمیت کو بھی سمجھ سکیں۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام ڈیجیٹل ثقافت کی حفاظت اور انٹرنیٹ کی تاریخ کو اگلی نسلوں کے لیے محفوظ بنانے کی جانب ایک منفرد قدم ہے۔
یہ ویڈیو نہ صرف یوٹیوب کی ابتدائی داستان کو بیان کرتی ہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں آن لائن ویڈیو شیئرنگ کے ارتقاء کا بھی ایک مختصر مگر دلچسپ عکس سامنے آتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: یوٹیوب کی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔