یونیورسٹی آف نارووال میں YLSEDP (Young Leaders Social Entrepreneurship Development Program) کی باوقار افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں اساتذہ، طلبہ اور مہمانِ خصوصی نے بھرپور شرکت کی۔ تقریب کا باقاعدہ آغاز ڈاکٹر حسیب سرور نے کیا، جنہوں نے اپنے خطاب میں وزیراعظم کے وژن “اڑان پاکستان پروگرام” سے حاضرین کو آگاہ کیا، جو وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کے قیادت میں شروع کیا گیا ایک اہم منصوبہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ و طالبات کو صرف نوکریاں تلاش کرنے تک محدود نہیں رکھنا بلکہ انہیں نوکریاں پیدا کرنے کے قابل بنانا ہے۔ ان کے مطابق سوشل انٹرپرینیور پروگرام نوجوانوں کی دلچسپی کو کاروبار اور عملی میدان کی طرف متوجہ کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ وہ خود مختار اور باصلاحیت بن سکیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیا الحق نے طلبہ کو متحرک اور عملی قدم اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اب سوچنے کا نہیں بلکہ کچھ کر دکھانے کا وقت ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اسی سیزن کے بعد ان کے طلبہ اپنی کمپنیاں لانچ کر کے عملی کامیابی کی مثال قائم کریں۔اس موقع پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے برائے انسداد منشیات کے نمائندے پروفیسر سید حسین حیدر نے بھی خطاب کیا اور طلبہ کی ذہنی و فکری صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے مختلف تربیتی سیشنز منعقد کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سیشنز کا مقصد نوجوانوں کی سوچنے کی صلاحیت کو تیز کرنا اور انہیں ذہنی طور پر مضبوط بنانا ہے تاکہ وہ عملی زندگی کے چیلنجز کا اعتماد سے سامنا کر سکیں۔تقریب کو شرکاء نے نہایت معلوماتی اور حوصلہ افزا قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ اس طرح کے اقدامات نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت