بے مقصد دھرنے اور الٹی میٹم
اشاعت کی تاریخ: 19th, February 2026 GMT
اڈیالہ جیل کے سامنے بانی پی ٹی آئی کی ہمشیراؤں کے ہفتہ وار احتجاج، عارضی دھرنوں، وزیر اعلیٰ کے پی کے اڈیالہ کے باربار چکروں میں ناکامی کے بعد چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات رنگ لائی اور بانی کی جسمانی صحت، بینائی کے مسئلے، بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے پر حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی شکایات کا ازالہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی ہوا اور بانی کے وکیل نے اپنی تفصیلی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی جس پر چیف جسٹس نے حکم بھی صادر کیا مگر پی ٹی آئی نے دو تین دن کا صبر بھی گوارا نہ کیا اور بانی کی صحت پر جو سیاست شروع کی وہ حکومت کی غلط پالیسی کے باعث کسی حد تک کامیاب بھی ہو گئی اور بانی کی بینائی کی خبریں اخبارات کی شہ سرخیاں بنیں اور الیکٹرانک میڈیا میں بھی نمایاں ضرور ہوئیں۔ تجزیہ کاروں نے اپنے اپنے حساب سے بانی کی صحت پر تبصرے کیے اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں کو بھی حکومت کی پالیسی پر تنقید کا موقعہ مل ہی گیا۔
حکومتی حامیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ جیلوں میں کسی بھی وجہ سے قیدیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں جو انھیں ملنے چاہئیں مگر پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت نے نہیں دیے۔ (ن) لیگی رہنما میاں جاوید لطیف کو بھی کہنا پڑا کہ کسی حکومت کو کسی کی زندگی سے کھیلنے کی اجازت نہیں مگر خود بانی اپنے اقتدار میں کس طرح دوسروں کی صحت کا مذاق اڑایا کرتے تھے وہ بھی مناسب نہیں تھا۔ (ن) لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق کے بیان سے بھی بانی کی حمایت نظر آئی۔ تجزیہ کاروں کا موقف بھی درست تھا کہ قیدیوں کے علاج کے لیے بروقت اقدامات حکومت کی ذمے داری ہے۔ آنکھ کا مسئلہ سیریس ہوتا ہے جس پر حکومت اور پی ٹی آئی کسی کو بھی سیاست نہیں کرنی چاہیے۔
حکومت کی طرف سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ بانی سابق وزیر اعظم ہیں انھیں فوری توجہ کی ضرورت تھی۔ ایک تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ہی سلمان صفدر نے بانی سے ملاقات کی تو یہ مسئلہ سامنے آیا، اگر آنکھ کا کوئی مسئلہ تھا تو جنوری میں بانی کی ہمشیرہ جب بانی سے ملی تھیں تو اس وقت آنکھ کے علاج کی بات ہی نہیں ہوئی تھی۔ وزیر مملکت طلال چوہدری کا کہنا ہے کہ بانی کی آنکھ اور بینائی کا فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹروں نے ہی کرنا ہے اور حکومت نے کوئی لاپرواہی نہیں کی اور سلمان صفدر سے ملاقات سے قبل بانی نے خود کچھ نہیں بتایا تھا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ پر بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں جب کہ ان کی طرف سے تو کہا گیا ہے کہ بانی نے بینائی کی معمولی شکایت کی تھی جس پر متعدد بار ڈاکٹروں نے معائنہ کیا تھا اور دوائی بھی دی تھی۔ سابق سپرنٹنڈنٹ جیل نے تو چارج چھوڑنے سے قبل بھی بانی کا معائنہ کرایا تھا۔
یہ بھی درست ہے کہ بانی کی بہنوں اور پی ٹی آئی کو بانی سے ملاقاتیں نہ کرانے کی ضرور شکایات تھیں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا تھا۔ حکومت نے بانی سے ملنے پر کسی وجہ سے پابندی لگائی تھی کیونکہ بانی کی بہنیں ملاقاتوں کے بعد بھی سیاست کر رہی تھیں اور ہر منگل چند گھنٹوں کے لیے احتجاج و دھرنا بھی ہوتا تھا۔
ملاقات نہ کرانا حکومتی مسئلہ تھا مگر جیل انتظامیہ کی طرف سے بانی کی آنکھ کا مسئلہ بڑھ جانے پر حکومت نے بانی کو پمز لا کر ان کی آنکھ کا معائنہ بھی کرایا تھا مگر حکومت نے یہ حقیقت چھپائی بھی تھی جو غلط حکومتی فیصلہ تھا۔ بعد میں حکومت نے تصدیق بھی کی جس سے پی ٹی آئی کو شکایتوں کا موقعہ ملا اور سلمان صفدر کی ملاقات کے بعد پی ٹی آئی رہنماؤں نے اس کو بڑا مسئلہ بنا دیا اور یہ تک کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے زیادہ ضروری ہمارے لیے کچھ نہیں۔ اس بیان کا مقصد بینائی کے مسئلے کو سیاسی بنا کر احتجاج و دھرنے کا جواز پیدا کرنا تھا جو حکومتی غلط پالیسی سے پی ٹی آئی کو مل گیا۔
بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا کہ ہم الٹی میٹم دے رہے ہیں کہ بانی کو رہا کرو۔ سینیٹ میں پی ٹی آئی سینیٹروں نے ہنگامہ کیا جس پر حکومتی مشیر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پی ٹی آئی غیر ضروری احتجاج نہ کرے۔ معائنہ کرنے والے ڈاکٹر جس سے کہیں گے حکومت بانی کا علاج کرائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جنوری میں بانی کی آنکھ کی تکلیف کا بتایا گیا تھا اب ان کی صحت پر سیاست کرنا غلط ہے۔ پرویز رشید کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی اب لاشوں اور جھوٹوں کی سیاست نہیں چلے گی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے احتجاج سے حکومت نہیں جھکے گی۔ پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا جو حکومت نے نہیں ہونے دیا جس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان صدر کی طرف جانے والے گیٹ پر دھرنا دیا اور نعرے بازی کی جو اپوزیشن کا حق تھا مگر 16 فروری کا انتظار نہیں کیا گیا اور وقت سے پہلے عدالتی فیصلہ نہ آنے پر بھی احتجاج کیا گیا۔
بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان بانی کی رہائی کے لیے الٹی میٹم بھی دے رہی ہیں اور وزیر اعلیٰ کے پی اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے سخت بیانات بھی آ رہے ہیں اور مخالفانہ بیان بازی بھی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے 8 مقدمات بھی سماعت کے لیے مقرر ہو گئے ہیں اور عدالتی ریلیف بھی ملنے لگا ہے جس کے بعد احتجاج، دھرنے اور دھمکی آمیز بیانات بے مقصد ثابت ہو رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ٹی آئی کی سپریم کورٹ سے ملاقات کی طرف سے حکومت کی پر حکومت حکومت نے اور بانی کہ بانی کی آنکھ رہے ہیں بانی کی کا کہنا آنکھ کا کے لیے کے بعد کو بھی کی صحت
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :