مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر انتخابات میں کلین سویپ کر یگی: فاروق حیدر خان
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
ہٹیاں بالا (نمائندہ نوائے وقت) سابق وزیراعظم آزاد کشمیر و پارلیمانی لیڈر مسلم لیگ ن راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ عوام کی جوق درجوق شمولیت نے واضح کر دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں اگلی حکومت مسلم لیگ ن بنائیگی۔ 2021ء میں اگر ہمارا مینڈیٹ چوری نہ کیا جاتا تو اس وقت ریاست کے اندر یہ حالات پیدا نہ ہوتے، ہماری حکومت نے میرٹ قائم کیا، پائیدار ترقی کی بنیاد ڈالی، آزادکشمیر کو آئینی و انتظامی اختیارات واپس دلوائے۔ قائد مسلم لیگ ن محمد نوازشریف آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں شامل ہونگے، کارکنان الیکشن کی تیاریاں شروع کر دیں، نو تعینات چیف الیکشن کمشنر ایک تجربہ کار شخصیت ہیں جنہوں نے 2016ء میں صاف شفاف انتخابات کروائے۔ ان کی تعیناتی سے توقع ہے کہ وہ اس اہم آئینی عہدے پر اپنی سابقہ روایات دوہراتے ہوئے آئندہ عام انتخابات کے لیے بہترین انتظامات کرینگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: مسلم لیگ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔