کراچی: سولجر بازار میں گیس لیکیج دھماکے سے منہدم عمارت کا مالک گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
کراچی کے علاقے سولجر بازار میں گیس لیکیج کے باعث ہونے والے دھماکے کے بعد گرنے والی عمارت کے مالک کے خلاف مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جس میں قتل بالسبب، املاک کا نقصان، غفلت، لاپروائی اور دیگر دفعات شامل ہیں۔
مقدمے کے متن کے مطابق عمارت گرنے کے باعث کئی لوگ جاں بحق اور زخمی ہوئے۔
علاوہ ازیں گزشتہ رات پیش آنے والے واقعے کی آج سی سی ٹی وی ویڈیو بھی سامنے آ گئی ہے۔
کراچی سولجربازار ،دھماکے سے عمارت منہدم،خواتین.
عمارت میں گیس لیکیج سے دھماکا 3 بجکر 47 منٹ پر ہوا۔
واضح رہے کہ سولجر بازار میں دھماکے سے عمارت منہدم ہو گئی تھی جس سے خواتین اور بچوں سمیت 16 افراد جاں بحق اور 14 زخمی ہو گئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سولجر بازار دھماکے سے
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک